تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 184
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۴ سورة بنی اسراءیل إلى حين (الاعراف : ۲۵ )۔پس یہ عرب کے کفار کی شرارت تھی کہ وہ لوگ برخلاف وعدہ دعہد الہی معجزہ مانگتے تھے اور خوب جانتے تھے کہ ایسا معجزہ دکھایا نہیں جائے گا کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کے اس قول کے برخلاف ہے جو گزر چکا ہے اور خدا تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اپنے عہد کو توڑے اور پھر فرما یا کہ ان کو کہہ دے کہ میں تو ایک بشر ہوں اور خدا تعالیٰ فرما چکا ہے کہ بشر کے لئے ممتنع ہے کہ اس کا جسم خا کی آسمان پر جائے ہاں پاک لوگ دوسرے جسم کے ساتھ آسمان پر جاسکتے ہیں جیسا کہ تمام نبیوں اور رسولوں اور مومنوں کی روحیں وفات کے بعد آسمان پر جاتی ہیں اور انہیں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مُفَتَعَةٌ لَهُمُ الْأَبْوَابُ (ص:۵۱) یعنی مومنوں کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے۔یادر ہے کہ اگر صرف روحیں ہوتیں تو ان کے لئے کھر کی ضمیر نہ آتی پس یہ قرینہ قویہ اس بات پر ہے کہ بعد موت جومومنوں کا رفع ہوتا ہے وہ مع جسم ہوتا ہے مگر یہ جسم خاکی نہیں ہے بلکہ مومن کی روح کو ایک اور جسم ملتا ہے جو پاک اور نورانی ہوتا ہے اور اس دکھ اور عیب سے محفوظ ہوتا ہے جو عصری جسم کے لوازم میں سے ہے یعنی وہ ارضی غذاؤں کا محتاج نہیں ہوتا اور نہ زمینی پانی کا حاجتمند ہوتا ہے اور وہ تمام لوگ جن کو خدا تعالیٰ کی ہمسائیگی میں جگہ دی جاتی ہے ایسا ہی جسم پاتے ہیں اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ حضرت عیسی نے بھی وفات کے بعد ایسا ہی جسم پایا تھا اور اسی جسم کے ساتھ وہ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے گئے تھے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۰۱،۴۰۰) کفار قریش نے ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ معجزہ طلب کیا کہ ان کے رو برو آسمان پر چڑھ جائیں تو آپ کو خدا تعالیٰ نے ان الفاظ کے ساتھ جواب دیا کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إلا بَشَرًا رَّسُولاً (المؤمن :۶۱) یعنی ان لوگوں کو یہ جواب دے کہ خدا تعالیٰ اس بات سے پاک ہے کہ اپنے وعدہ میں تخلف کرے۔۔۔۔اور میں تو صرف ایک انسان ہوں جو تمہاری طرف بھیجا گیا۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۲۸) ہمارا خدا تعالیٰ پر کیا حق ہے کہ ہم جو کہیں وہ وہی کر دے۔یہ سوء ادب ہے اور ایسا خدا خدا ہی نہیں ہو سکتا۔ہاں یہ اس کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو امید اور حوصلہ دلایا کہ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن :(٦) یہ نہیں کہا کہ تم جو مانگو گے وہی دیا جاوے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بعض اقتراحی نشانات مانگے گئے تو آپ نے یہی خدا کی تعلیم سے جواب دیا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا خدا کے رسول کبھی اپنی بشریت کی حد سے نہیں بڑھتے اور وہ آداب الہی کو مد نظر رکھتے ہیں۔احکام جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۳)