تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 158

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۸ سورة بنی اسراءیل کلمہ الہی ہے جو متشکل بروح ہوگئی ہے تو خدائے تعالیٰ نے اس کا یہ حقانی جواب دیا کہ کوئی بھی ایسی روح نہیں جو کلمتہ اللہ نہ ہو اور مجرد الہی حکم سے نہ نکلی ہو قُلِ الرُّوحُ مِنْ اَمرِ رَبّى اسی کی طرف اشارہ ہے اور یہ بات جو کلمات اللہ بصورت ارواح و دیگر مخلوق جلوہ گر ہو جاتی ہیں یہ خالقیت کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے اور اسرار الہیہ میں سے ایک بار یک نکتہ ہے جس کی طرف کسی انسانی عقل کو خیال نہیں آیا اور خدائے تعالی کے پاک اور کامل کلام نے اس کو اپنے الہی نور سے منکشف کیا ہے اور اگر ایسا نہ مانا جائے تو خدائے تعالیٰ اپنے ہی کلمہ اور امر سے ارواح اور اجسام کو وجود پذیر کر لیتا ہے۔تو پھر آخر یہ ماننا پڑے گا کہ جب تک باہر سے اجسام اور روحیں نہ آویں پر میٹر کچھ بھی نہیں کر سکتا۔سرمه چشم آریه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۶۵) ارواح کا حادث اور مخلوق ہونا قرآن شریف میں بڑے بڑے قومی اور قطعی دلائل سے بیان کیا گیا ہے چنانچه برعایت ایجاز و اجمال چند دلائل ان میں سے نمونہ کے طور پر اس جگہ لکھے جاتے ہیں۔اول یہ بات بہ ہداہت ثابت ہے کہ تمام روحیں ہمیشہ اور ہر حال میں خدائے تعالی کی ماتحت اور زیر حکم ہیں اور بجر مخلوق ہونے کے اور کوئی وجہ موجود نہیں جس نے روحوں کو ایسے کامل طور پر خدائے تعالیٰ کی ماتحت اور زیر حکم کر دیا ہو سو یہ روحوں کے حادث اور مخلوق ہونے پر اول دلیل ہے۔دوم یہ بات بھی بہ ہداہت ثابت ہے کہ تمام روحیں خاص خاص استعدادوں اور طاقتوں میں محدود اور محصور ہیں جیسا کہ بنی آدم کے اختلاف روحانی حالات و استعدادات پر نظر کر کے ثابت ہوتا ہے اور یہ تحدید ایک محدود کو چاہتی ہے جس سے ضرورت محدث کی ثابت ہو کر ( جو محدد ہے ) حدوث روحوں کا بہ پایہ ثبوت پہنچتا ہے۔سوم یہ بات بھی کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ تمام روحیں عجز و احتیاج کے داغ سے آلودہ ہیں اور اپنی تکمیل اور بقا کے لئے ایک ایسی ذات کی محتاج ہیں جو کامل اور قادر اور عالم اور فیاض مطلق ہو اور یہ امران کی مخلوقیت کو ثابت کر نے والا ہے۔چہارم یہ بات بھی ایک ادنیٰ غور کرنے سے ظاہر ہوتی ہے کہ ہماری روحیں اجمالی طور پر ان سب متفرق الہی حکمتوں اور صنعتوں پر مشتمل ہیں جو اجرام علوی و سفلی میں پائے جاتے ہیں۔اسی وجہ سے دنیا باعتبار اپنے جزئیات مختلفہ کے عالم تفصیلی ہے اور انسان عالم اجمالی کہلاتا ہے یا یوں کہو کہ یہ عالم صغیر اور وہ عالم کبیر ہے پس جبکہ ایک جزئی عالم کے بوجہ پائے جانے پر حکمت کاموں کے ایک صانع حکیم کی صنعت کہلاتی ہے تو خیال