تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 157
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۷ سورة بنی اسراءیل روحوں کے پیدا کرنے پر قادر نہیں بلکہ ان کی نسبت پورا پورا علم بھی نہیں رکھتا۔دوسرا ٹکڑہ ہمارے سوال کا حق العباد سے متعلق ہے یعنی یہ کہ آریہ صاحبان کے اعتقاد مذکورہ بالا کے رو سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پر میشر اپنے بندوں سے بھی ناحق کا ایک بخل رکھتا ہے کیونکہ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ مکتی اور نجات کی اصل حقیقت یہی ہے کہ انسان ماسوائے اللہ کے محبت سے مونہہ پھیر کر پر میشر کی محبت میں ایسا محو ہو جائے کہ جس طرح عاشق اپنے محبوب کے دیکھنے سے لذت اٹھاتا ہے ایسا ہی اپنے محبوب حقیقی کے تصور سے لذت اٹھائے اور محبت بجز معرفت حاصل نہیں ہو سکتی اور قاعدہ کی بات ہے کہ موجب محبت کے دو ہی امر ہیں یا محسن یا احسان پس جب انسان به باعث اپنی کامل معرفت کے خدائے تعالیٰ کے حسن و احسان پر اطلاع کامل طور پر پاتا ہے تو لامحالہ اس سے کامل محبت پیدا ہو جاتی ہے اور کامل محبت سے لذت ملتی ہے پس اسی جہان سے بہشتی زندگی عارف کی شروع ہو جاتی ہے اور وہی معرفت اور محبت عالم آخرت میں سرور دائگی کا موجب ہو جاتی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں نجات سے تعبیر کرتے ہیں۔اب میں پوچھتا ہوں کہ جب ایک شخص کو پورا پورا سامان نجات کا میسر آ گیا اور پرمیشر کی کرپا اور فضل سے مکتی پا گیا تو پھر کیوں پر میشر اس کو نا کردہ گناہ مکتی خانہ سے باہر نکالتا ہے کیا وہ اس بات سے چڑتا ہے کہ کوئی عاجز بندہ ہمیشہ کے لئے آرام پاسکے جس حالت میں ابدی بقا کے روحوں میں قوت رکھی گئی ہے تو کیا پرمیشر اپنے بندوں کو ابدی سرور نہیں دے سکتا۔سرمه چشم آرید، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۳۹ تا ۱۴۲) اگر سب ارواح اور اجسام خود بخود پر میشر کی طرح قدیم اور انادی ہیں اور اپنے اپنے وجود کے آپ ہی خدا ہیں۔تو پر میشر اس دعوی کا ہر گز مجاز نہیں رہا کہ میں ان چیزوں کا رب اور پیدا کنندہ ہوں کیونکہ جب کہ ان چیزوں نے پر میشر کے ہاتھ سے وجود ہی نہیں لیا تو پھر ایسا پر میشر ان کا رب اور مالک کیوں کر ہو سکتا ہے۔مثلاً اگر کوئی بچہ بنا بنایا آسمان سے گرے یا زمین کے خمیر سے خود پیدا ہو جائے تو کسی عورت کو یہ دعویٰ ہرگز نہیں پہنچتا کہ یہ میرا بچہ ہے بلکہ اس کا بچہ وہی ہو گا جو اس کے پیٹ سے نکلا ہے سو جو خدا کے ہاتھ سے نکلا ہے وہی خدا کا ہے اور جو اس کے ہاتھ سے نہیں نکلا وہ اس کا کسی طور سے نہیں ہوسکتا۔کوئی صالح اور بھلا مانس ایسی چیزوں پر ہر گز قبضہ نہیں کرتا جو اس کی نہ ہوں تو پھر کیوں کر آریوں کے پرمیشر نے ایسی چیزوں پر قبضہ کر لیا جن پر قبضہ کرنے کا اس کو کوئی استحقاق نہیں۔سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۴۶) عیسائیوں نے جب اپنی نادانی سے یہ کہنا شروع کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کلمتہ اللہ ہیں یعنی ان کی روح