تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 142
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۲ سورة بنی اسراءیل طرف اڑاتے ہیں وہ یقین ہی ہے۔کوشش کرو کہ اس خدا کو تم دیکھ لو جس کی طرف تم نے جانا ہے۔اور وہ مرکب یقین ہے جو تمہیں خدا تک پہنچائے گا۔کس قدر اس کی تیز رفتار ہے کہ وہ روشنی جو سورج سے آتی ہے اور زمین پر پھیلتی ہے وہ بھی اس کی سرعت رفتار کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتی اسے پاکیزگی کے ڈھونڈ نے والو اگر تم چاہتے ہو کہ پاک دل بن کر زمین پر چلو اور فرشتے تم سے مصافحہ کریں تو تم یقین کی راہوں کو ڈھونڈو۔اور اگر تمہیں اس منزل تک ابھی رسائی نہیں تو اس شخص کا دامن پکڑ وجس نے یقین کی آنکھ سے اپنے خدا کو دیکھ لیا ہے اور یہ کہ کیوں کر یقین کی آنکھ سے خدا کو دیکھا جاوے اس کا جواب کوئی مجھ سے سنے یا نہ سنے مگر میں یہی کہوں گا کہ اس یقین کے حاصل کرنے کا ذریعہ خدا کا زندہ کلام ہے جو زندہ نشان اپنے اندر اور ساتھ رکھتا ہے جب وہ آسمان پر سے اترتا ہے تو نئے سرے مردوں کو قبروں میں سے نکالتا ہے۔تم دیکھتے ہو کہ با وجود آنکھوں کے بینا ہونے کے تم آسمانی آفتاب کے محتاج ہو اسی طرح خدا شناسی کی بینائی محض اپنی انکلوں سے حاصل نہیں ہو سکتی وہ بھی ایک آفتاب کی محتاج ہے۔اور وہ آفتاب بھی آسمان پر سے اپنی روشنی زمین پر نازل کرتا ہے یعنی خدا کا کلام۔کوئی معرفت خدا کے کلام کے بغیر کامل نہیں ہو سکتی۔خدا کا کلام بندہ اور خدا میں ایک دلالہ ہے وہ اترتا ہے اور خدا کا نور اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جس پر وہ اپنے پورے کرشمہ اور پوری تجلی اور پوری خدائی عظمت اور قدرت اور برہنہ کرشمہ کے ساتھ اترتا ہے اس کو وہ آسمان پر لے جاتا ہے۔غرض خدا تک پہنچنے کے لئے بجز خدا تعالیٰ کے کلام کے اور کوئی سبیل نہیں۔نزول مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۶۸ تا۴۷۵) جو اس جہان میں اندھا ہے وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا۔اب ایک ایسا معترض جس کو خدا کے کلام کا منشاء معلوم نہیں یہ اعتراض کرے گا کہ دیکھو مسلمانوں کے مذہب میں لکھا ہے کہ اندھوں کو نجات نہیں۔غریب اندھے کا کیا قصور ہے۔مگر جو تعصب دور کر کے غور سے قرآن شریف کو پڑھے گا وہ سمجھ لے گا کہ اس جگہ پر آنکھوں سے اندھے مراد نہیں ہیں بلکہ دل کے اندھے مراد ہیں۔غرض یہ ہے کہ جن کو اسی دنیا میں خدا کا درشن نہیں ہوتا اُنہیں دوسرے جہاں میں بھی درشن نہیں ہوگا اسی طرح صد با خدا کے کلام میں مجاز اور استعارے ہوتے ہیں۔ایک نفسانی جوش والا آدمی جلدی سے سب کو جائے اعتراض بنادے گا۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہی سچ بات ہے کہ خدا کا کلام سمجھنے کے لئے اول دل کو ایک نفسانی جوش سے پاک بنانا چاہئے تب خدا کی طرف سے دل پر روشنی اُترے گی۔بغیر اندرونی روشنی کے اصل حقیقت نظر نہیں آتی۔سناتن دھرم، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۷۳)