تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 138

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۸ سورة بنی اسراءیل ہے اور کیوں کر کوئی مذہب خدا نما ہوسکتا اور کیوں کر گناہوں سے چھڑا سکتا ہے جب تک کوئی یقین کا ذریعہ اپنے پاس نہیں رکھتا اور جب تک سورج نہ چڑھے کیوں کر دن چڑھ سکتا ہے۔پس دنیا میں سچا مذہب وہی ہے جو بذریعہ زندہ نشانوں کے یقین کی راہ دکھلاتا ہے باقی لوگ اسی زندگی میں دوزخ میں گرے ہوئے ہیں بھلا بتاؤ کہ ظن بھی کچھ چیز ہے جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہیں کہ شاید یہ بات صحیح ہے یا غلط۔یادرکھو کہ گناہ سے پاک ہونا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔فرشتوں کی سی زندگی بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔دنیا کی بے جا عیاشیوں کو ترک کرنا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔ایک پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لینا اور خدا کی طرف ایک خارق عادت کشش سے کھینچے جانا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔زمین کو چھوڑنا اور آسمان پر چڑھ جانا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔خدا سے پورے طور پر ڈرنا بجر یقین کے کبھی ممکن نہیں۔تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارنا اور اپنے عمل کو ریا کاری کی ملونی سے پاک کر دینا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔ایسا ہی دنیا کی دولت اور حشمت اور اس کی کیمیا پر لعنت بھیجنا اور بادشاہوں کے قرب سے بے پرواہ ہوجانا اور صرف خدا کوا پنا ایک خزانہ سمجھنا بجر یقین کے ہر گز ممکن نہیں۔اب بتلاؤ اے مسلمان کہلانے والو کہ ظلمات شک سے نوریقین کی طرف تم کیوں کر پہنچ سکتے ہو۔یقین کا ذریعہ تو خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ (البقرة : ۲۵۸) کا مصداق ہے۔سو چونکہ عہد نبوت پر تیرہ سو برس گزر گئے اور تم نے وہ زمانہ نہیں پایا جب کہ صد ہا نشانوں اور چمکتے ہوئے نوروں کے ساتھ قرآن اترتا تھا اور وہ زمانہ پایا جس میں خدا کی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے دین پر ہزار ہا اعتراض عیسائی اور دہریہ اور آریہ وغیرہ کر رہے ہیں اور تمہارے پاس بجز لکھے ہوئے چند ورقوں کے جن کی اعجازی طاقت سے تمہیں خبر نہیں اور کوئی ثبوت نہیں اور جو معجزات پیش کرتے ہو وہ محض قصوں کے رنگ میں ہیں تو اب بتلاؤ کہ تم کس راہ سے اپنے تئیں یقین کے بلند مینار تک پہنچا سکتے ہو اور کس طریق سے دشمن کو بتلا سکتے ہو کہ تمہارے پاس خدا پر یقین لانے کے لئے اور گناہ سے بچنے کے لئے ایک ایسی چیز ہے جو دشمن کے پاس نہیں تا وہ انصاف کر کے تمہارے مذہب کا طالب ہو جائے اس حرکت سے ایک عقلمند کو کیا فائدہ کہ ایک گو بر کو چھوڑ دے اور دوسرے گو بر کو کھا لے۔سچائی کو ہر یک سعید دل لینے کو طیار ہے بشرطیکہ سچائی اپنے نور کو ثابت کر کے دکھلا دے جس اسلام کو آج یہ مخالف مولوی اور ان کا گروہ غیر مذہب کے لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ صرف پوست ہے نہ مغز اور محض افسانہ ہے نہ حقیقت۔پھر کوئی کیوں کر اس کو قبول کرے اور جس بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لئے ایک شخص مذہب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے اگر