تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page xiv
xiii مضمون منکرین الہام کی مجبت کا جواب کہ اگر الہام حق اور صحیح ہے تو صحابہ جناب پیغمبر خدا اس کے پانے کے لیے احق اور اولی تھے حالانکہ ان کا پانا متفق نہیں صفحہ ۲۰۳ سی الزام کہ صحابہ کرام سے الہامات ثابت نہیں ہوئے بالکل بے جا اور غلط ہے ۲۰۴ پلیدوں کے عذاب پر خدا پروا نہیں کرتا کہ ان کے بیوی بچوں کا کیا حال ہوگا اور راستبازوں کے لئے كَانَ ابُوهُمَا صَالِحًا کی رعایت کرتا ہے ۲۰۷ اس وحی الہی کی رو سے کہ جبری اللہ فی حلل الانبیاء اس امت کے لیے ذوالقرنین میں ہوں اس قصہ میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ذوالقرنین نے تین قو میں پائیں اول وہ جو غروب آفتاب کے پاس ہے اور کیچڑ میں ہے اس سے مراد عیسائی قوم ہے دوسری قوم وہ ہے جو آ فتاب کے پاس ہے اور جھلسنے والی دھوپ ہے یہ مسلمانوں کی موجودہ حالت ہے تیسری وہ قوم ہے جس نے اس سے فریاد کی کہ ہم کو یا جوج ماجوج سے بچا یہ ہماری قوم ہے جو مسیح موعود کے پاس آئی ذوالقرنین کا مطلب ہے دوصدیاں پانے والا مفتی صاحب نے ۱۶ یا کا صدیاں جمع کر کے دکھائی تھیں وہ ذوالقرنین جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے اور ہے اور سکندر رومی اور اور شخص ہے اس سوال کا جواب قرآن شریف میں لکھا ہے کہ ذوالقرنین نے آفتاب کو دلدل میں غروب ہوتے پایا ۲۰۹ ۲۰۹ ۲۱۰ ۲۱۱ ۲۱۳ ۲۱۶ ۲۱۸ ۲۲۲ نمبر شمار ۱۰۵ 1+7 ۱۰۷ ۱۰۸ 1+9 11۔= " ۱۱۲ ۱۱۳ ۱۱۴ ۱۱۵