تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 108
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۸ سورة بنی اسراءیل کی تمام قومی پر محیط ہو رہا ہے اور آیت موصوفہ میں سیدھی راہ سے وہی راہ مراد ہے کہ جو راہ انسان کی فطرت سے نہایت نزدیک ہے یعنی جن کمالات کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے اُن تمام کمالات کی راہ اُس کو دکھلا دینا اور وہ راہیں اُس کے لئے میسر اور آسان کر دینا جن کے حصول کے لئے اُس کی فطرت میں استعدا در رکھی گئی ہے اور لفظ اقوم سے آیت يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ میں یہی راستی مراد ہے۔(کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۵۴،۵۳) وَجَعَلْنَا اليلَ وَالنَّهَارِ أَيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا ايَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لتَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السّنِينَ وَالْحِسَابَ وَكُلّ شَيْءٍ فَصَّلْنَهُ تفصيلات ہم نے رات اور دن دو نشانیاں بنائی ہیں یعنی انتشار ضلالت جو رات سے مشابہ ہے اور انتشار ہدایت جو دن سے مشابہ ہے۔رات جو اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے تو دن کے چڑھنے پر دلالت کرتی ہے اور دن جب اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے تو رات کے آنے کی خبر دیتا ہے سو ہم نے رات کا نشان محو کر کے دن کا نشان رہنما بنایا یعنی جب دن چڑھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے اندھیرا تھا۔سو دن کا نشان ایسا روشن ہے کہ رات کی حقیقت بھی اسی سے کھلتی ہے اور رات کا نشان یعنی ضلالت کا زمانہ اس لئے مقرر کیا گیا کہ دن کے نشان یعنی انتشار ہدایت کی خوبی اور زیبائی اس سے ظاہر ہوتی ہے کیونکہ خوبصورت کا قدر ومنزلت بدصورت سے ہی معلوم ہوتا ہے اس لئے حکمت الہیہ نے یہی چاہا کہ ظلمت اور نور علی سبیل التبادل دنیا میں دور کرتے رہیں۔جب نو ر اپنے کمال کو پہنچ جائے تو ظلمت قدم بڑھاوے۔اور جب ظلمت اپنے انتہائی درجہ تک پہنچ جائے تو پھر نور اپنا پیارا چہرہ دکھاوے سو استیلا ظلمت کا نور کے ظہور پر ایک دلیل ہے اور استیلا نور کا ظلمت کے آنے کا ایک سبیل ہے۔ہر کمال را ز والے مثل مشہور ہے سو اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب ظلمت اپنے کمال کو پہنچ گئی اور بر و بحر ظلمت سے بھر گئے تو ہم نے مطابق اپنے قانون قدیم کے نور کے نشان کو ظاہر کیا تا دانشمند لوگ قادر مطلق کی قدرت نمایاں کو ملاحظہ کر کے اپنے یقین اور معرفت کو زیادہ کریں۔برائین احمدیہ چہار صص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۳۵ تا ۷ ۶۳) وَكُلَّ شَيْءٍ فَضَلْنَهُ تَفصيلا - الجز نمبر ۱۵۔یعنی اس کتاب میں ہر یک علم دین کو بہ تفصیل تمام کھول دیا