تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 51

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۱ سورة المائدة اور یہ بھی خود عیسائی مانتے ہیں کہ اس کا فلاں حصہ الحاقی ہے۔پھر ایک اور بات دیکھنے والی ہے کہ انجیل میں سے عیسی کی موت اور بعد کے حالات اور توریت میں موسیٰ کی موت کا حال درج ہے تو کیا اب ان کتابوں کا نزول دونوں نبیوں کی وفات کے بعد تک ہوتا رہا ؟ اس سے ثابت ہے کہ موجودہ کتب اصل کتب نہیں ہیں اور نہ اب ان کا میسر آنا ممکن ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۳۲ مورخه ۲۸ اگست ۱۹۰۳ء صفحه ۲۵۰) وَاَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَبِ وَمُهَيْمِنَّا عَلَيْهِ فَاحْكُمُ بَيْنَهُم بِمَا أَنْزَلَ اللهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ لِكُل جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا وَ لَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَكِن * لِيَبُدُوكُم فِى مَا الكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُم فِيهِ تَخْتَلِفُونَ پہلے نوع انسان صرف ایک قوم کی طرح تھی اور پھر وہ تمام زمین پر پھیل گئے تو خدا نے ان کی سہولت تعارف کے لیے ان کو قوموں پر منقسم کر دیا اور ہر ایک قوم کے لیے اس کے مناسب حال ایک مذہب مقرر کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔۔۔۔۔۔لحلٍ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا۔۔۔۔فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ۔۔۔۔۔۔ہر ایک قوم کے لیے ہم نے ایک مشرب اور مذہب مقرر کیا تاہم مختلف فطرتوں کے جو ہر بذریعہ اپنی مختلف ہدایتوں کے ظاہر کر دیں۔پس تم اے مسلمانو! تمام بھلائیوں کو دوڑ کر لو کیونکہ تم تمام قوموں کا مجموعہ ہو اور تمام فطرتیں تمہارے اندر ہیں۔(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۴۶) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصْرَى أَوْلِيَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءَ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ ان آیتوں کو پڑھ کر نادان عیسائی دھو کہ کھاتے ہیں کہ مسلمانوں کو حکم ہے کہ عیسائی وغیرہ بے دین فرقوں سے محبت نہ کریں لیکن نہیں سوچتے کہ ہر یک لفظ اپنے محل پر استعمال ہوتا ہے جس چیز کا نام محبت ہے وہ فاسقوں اور کافروں سے اسی صورت میں بجا لانا متصور ہے کہ جب ان کے کفر اور فسق سے کچھ حصہ لے لیوے۔نہایت سخت جاہل وہ شخص ہو گا جس نے یہ تعلیم دی کہ اپنے دین کے دشمنوں سے پیار کرو۔ہم بارہا