تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 50

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة المائدة خوفناک ہے اور گناہوں کی معافی | it is and also showed men how they حاصل کر کے اور روح القدس کے could be reconciled to God, obtaining عطیہ سے ہم تقدس کی نئی زندگی پاکر forgiveness of sins and also Power by اور خدا اور انسان کے درمیان محبت the gift of the Holy Spirit to live a new قائم کر کے خدا کو پھر راضی کر سکتے life in real holiness, and in love to God ہیں۔متی باب ۵ تاے میں پہاڑی تعلیم and man۔What the characteristics of کے پڑھنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ that new life are you can see by اس نئی زندگی کا طر ز طریق کیا تھا دستخط جے اے لغیر ائے بشپ لاہور reading the sermon on the mount St۔Mathew chapter V to VII۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۵۱۹ تا۵۲۱) مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ) مصدق کے معنے قرآنی طور پر یہ ہیں کہ جو کچھ صحیح تھا اس کی تو نقل کر دی اور جو نہیں لیا وہ غلط تھا پھر انجیلوں کا آپس میں اختلاف ہے اگر قرآن نے تصدیق کی ہے تو بتلاؤ کون سی انجیل کی کی ہے؟ قرآن نے یوحنا متی وغیرہ کی انجیل کی کہیں تصدیق نہیں کی۔ہاں ! پطرس کی دعا کی تصدیق کی ہے اسی طرح کون سی توریت کہیں جس کی تصدیق قرآن نے کی؟ پہلے توریت تو ایک بتاؤ! قرآن تو تمہاری توریت کو محرف بتلاتا ہے اور تم میں خود اختلاف ہے کہ توریت مختلف ہیں۔البدر جلد نمبر ۲ مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۰) قرآن شریف انجیل کی تصدیق قول سے نہیں کرتا بلکہ فعل سے کرتا ہے کیونکہ جو حصہ انجیل کی تعلیم کا قرآن کے اندر شامل ہے اس پر قرآن نے عمل درآمد کروا کے دکھلا دیا ہے اور اسی لیے ہم اسی حصہ انجیل کی تصدیق کر سکتے ہیں جس کی قرآن کریم نے تصدیق کی ہمیں کیا معلوم کہ باقی کا رطب و یابس کہاں سے آیا ؟ ہاں ! اس پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ پھر آیت : وَلَيَحْكُمُ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ میں جو لفظ انجیل عام ہے اس سے کیا مراد ہے، وہاں یہ بیان نہیں ہے کہ انجیل کا وہ حصہ جس کا مصدق قرآن ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں الانجیل سے مراد اصل انجیل اور توریت ہے جو قرآن کریم میں درج ہو چکیں۔اگر یہ نہ مانا جاوے تو پھر بتلایا جاوے کہ اصلی انجیل کون سی ہے کیونکہ آج کل کی مروجہ اناجیل تو اصل ہو نہیں سکتیں ان کی اصلیت کس کو معلوم ہے