تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 47

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۷ سورة المائدة نُورٌ فَتَفَكَّرُ وَلَا تَكُن مِّنَ الْجَاهِلِينَ پائی جاتی تھی اور ان میں نو ر نہیں پایا جاتا تھا۔پس غور سے (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۹۱۸ حاشیہ کام لو اور جاہلوں میں سے نہ بنو۔(ترجمہ اصل کتاب سے ) ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت نہایت گندے الفاظ استعمال کئے اور لکھا۔۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو ذاتی طور پر ایک مستقل شریعت عطا کی گئی تھی اور جولوگ آپ پر ایمان لائے انہیں آپ نے شریعت کیمیہ سے مستغنی قرار دیا اور اس نے اپنے دعوئی میں یہ آیات پیش کیں: وَأَتَيْنَهُ الْإِنْجِيلَ فِيْهِ هُدًى وَ نُورٌ وَ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَةِ وَهُدًى وَ مَوْعِظَةٌ لِلْمُتَّقِينَ - وَلْيَحْكُمُ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فِيهِ یعنی خیر الکائنات محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی بشارت کے متعلق۔) اس کے جواب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: اس شخص نے اس آیت کے مفہوم کو نہ سمجھا اور اس نے مجھے پر ایسی آواز سے حملہ کیا ہے جو سب آوازوں میں سے مکروہ تر ہے اور گمان کیا کہ اس نے ایک مضبوط رکن کی پناہ لی ہے اور اس نے مجھے تہمت لگانے والی بدکار عورتوں کی طرح گالیاں دیں اور کہا کہ ایک واضح دلیل ہے اس بات پر کہ انجیل ایک مستقل شریعت ہے۔ہائے افسوس! اس پر اور اس کے غصہ پر جو اس نے اس طرح نکالا جیسے زمین سے کیڑے نکل آتے ہیں اور لوگوں میں سے بدبخت ترین وہ شخص ہے جو بے عقل ہو اور پھر وہ اپنے آپ کو عقلمندوں سے شمار کرے اور بالغ مردوں اور عورتوں کو جانے دو ہر مسلمان بچہ اور ہر مسلمان بچی یہ جانتی ہے کہ قرآن کریم یہود اور نصاری کو اس بات کا حکم نہیں دیتا کہ وہ اپنی کتابوں کی پیروی کریں اور اپنی شریعتوں پر ثابت قدم رہیں بلکہ وہ تو انہیں اسلام اور اس کے احکام کی طرف بلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی معزز کتاب میں فرمایا ہے : ان الدنين عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ ( ال عمران : ٢٠) - وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ ۚ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَسِرِينَ ( ال عمران : ۸۶)۔پس خدائے قدوس کے متعلق یہ گمان کیسے کیا جا سکتا ہے جبکہ وہ یہود و نصاری کو اس آیت میں اسلام کی طرف بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ تم کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے اور جنت میں داخل نہیں ہو سکتے سوائے اس کے کہ تم مسلمان ہو جاؤ اور قرآن کریم کے علاوہ تورات اور انجیل تمہیں نفع نہیں دیں گی۔یہ کہہ کر پھر وہ اپنی پہلی بات کو بھول جائے اور یہود اور نصاریٰ کے ہر فرقہ کو اس بات کا حکم دے کہ وہ اپنی شرائع میں ثابت قدم رہیں اور اپنی کتابوں کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں