تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 46

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶ سورة المائدة الْإِسْلَامِ وَيَقُولُ إِنَّكُمْ لا تُفْلِحُونَ اَبَدا کو اسلام کی طرف بلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ ہر گز کامیابی وَلَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا بَعْدَ اَنْ تَكُونُوا نہیں پاسکتے ہو اور نہ ہی جنت میں داخل ہو سکتے ہو۔مُسْلِمِينَ وَلَا يَنْفَعُكُمْ تَوْرَاتُكُمْ سوائے اس کے کہ تم مسلمان ہو جاؤ اور تمہیں قرآن مجید وَلَا الْجِيْلُكُمْ إِلَّا الْقُرْآنُ ثُمَّ يَنسی کے سوا تمہاری تو رات اور تمہاری انجیل فائدہ نہیں دے قَوْلَهُ الْأَوَّلَ وَيَأْمُرُكُلَّ فِرْقَةٍ فِن سکتیں پھر دوسری طرف اپنے پہلے قول کو بھول جائے اور الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى أَنْ يَعْبُتُوا عَلی یہود و نصاری کے ہر فرقہ کو حکم دے کہ وہ اپنی شریعتوں پر شَرَائِعِهِمْ وَيَتَمَسكُوابكُتُم ہی قائم رہیں اور اپنی اپنی کتابوں کو مضبوطی سے پکڑے وَيَكْفِيْهِمْ هَذَا لِنَجَاعِهِمْ وَإِن هَذَا رکھیں اور یہ بات ان کی نجات کے لیے کافی ہوگی۔یہ تو الاعمعُ الضَّدَّيْنِ وَالخَتِلافُ فِي الْقُرْآنِ اجتماع ضدین ہے اور قرآن مجید میں اختلاف کو تسلیم وَاللهُ نَزَّة كتابة عن الاختلافِ بِقَوْلِهِ کرنے کے مترادف ہے حالانکہ اللہ نے اپنی کتاب کو ہر عَنِ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِیهِ قسم کے اختلاف سے پاک قرار دیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے اخْتِلَافًا كَثِيرًا ، بَلِ الْايَةُ الَّتِي حَرَّفَ :که: لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيْهِ اخْتِلَافًا الْمُعْتَرِضُ مَعْنَاهَا كَمِثْلِ الْيَهُودِ تُشِيرُ كَثِيرًا۔اگر یہ کتاب منجانب اللہ نہ ہوتی تو لوگ اس میں إلى أن بَشَارَت نَبِيْنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بہت سے اختلاف پاتے۔بلکہ وہ آیت جس کے معنی وَسَلَّمَ كَانَتْ مَوْجُوْدَةٌ في التَّوْرَاتِ کرنے میں معترض نے یہودیوں کی طرح تحریف کی ہے وَالْإِنجِيلِ فَكَأَنَّ اللهَ يَقُولُ مَالَهُمْ اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تو رات اور انجیل لَا يَعْمَلُون عَلى وَصَايَا التَّوْرَاةِ وَالْانجیل میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آمد کی بشارت وَلَا يُسْلِمُونَ وَأَمَّا بَقِيَّةُ الْفَاظِ هذه موجود تھی۔تو گویا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہیں کیا ہو گیا ہے هَذِهِ الآيات أغنى لفظ فِيهِ نُورٌ وَ هُدی کہ وہ تو رات اور انجیل کے تاکیدی حکموں پر عمل نہیں فَلَيْسَ هَذَا دَلِيْلًا عَلى كَوْنِ الانجیل کرتے اور اسلام نہیں لاتے ان آیات کے بقایا الفاظ یعنی شَرِيعَةٌ مُسْتَقِلَةٌ أَلَيْسَ الزَّبُورُ وَغَيْرُةُ فِيهِ نُورٌ وَهُدًى اس بات کی دلیل نہیں کہ انجیل کوئی مِن كُتُبِ أنْبِيَاء بني إسرائيل هُدى مستقل شریعت ہے کیا زبور وغیرہ انبیاء بنی اسرائیل کے لِلنَّاسِ ايُوجَدُ فِيْهَا ظُلْمَةٌ وَلَا يُوجَدُ صحیفے لوگوں کے لیے ہدایت نہیں تھے۔کیا ان میں ظلمت ل النساء : ۸۳