تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page viii
۳۵ ۳۶ ۳۹ ? ? ? ۴۳ 1 7 ۳۲ صفحہ vii مضمون لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى اَلَا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى میں خدائے محبت کا ذکر نہیں کیا بلکہ معیار محبت کا ذکر کیا ہے تنعم اور کھانے پینے میں بھی اعتدال کرنے کا نام ہی تقویٰ ہے يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِه وہ لوگ شرح کے طور پر اپنی طرف سے بھی کچھ ملا دیا کرتے تھے حضرت مسیح کے نزول کی علامت کہ تمام اہل کتاب اس پر ایمان لے آویں گے صریح نص قرآن اور حدیث کے مخالف ہے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور رکھا ہے یہود اور نصاری کے دعویٰ نَحْنُ ابْنُوا اللهِ وَاحِباؤُه کی تردید حضرت موسیٰ کو بہت محنت کرنے کی ضرورت نہ پڑی قوم غلامی میں گرفتار تھی اور طیار تھی کہ کوئی آئے تو اسے قبول کر لیں حضرت موسیٰ کی قوم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا معیار اطاعت میں موازنہ دعا کی راہ میں دو بڑے مشکل امر ریاضتیں جو طریقہ نبوی سے باہر ہیں اللہ کے نزدیک مقبول نہیں اگر کسی شخص نے اپنے بھائی کے ساتھ ہمدردی نہیں کی تو اس نے ساری دنیا کے ساتھ ہمدردی نہیں کی نمبر شمار ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۲۱