تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 12

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲ سورة المائدة ہر یک استعداد کی اصلاح منظور تھی اور اسی وجہ سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ٹھہرے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر وہ تمام کام پورا ہو گیا جو پہلے اس سے کسی نبی کے ہاتھ پر پورا نہیں ہوا تھا۔چونکہ قرآن کو نوع انسان کی تمام استعدادوں سے کام پڑتا تھا اور وہ دنیا کی عام اصلاح کیلئے نازل کیا گیا تھا اس لئے تمام اصلاح اس میں رکھی گئی اور اسی لئے قرآنی تعلیم کا دین اسلام کہلایا اور اسلام کا لقب کسی دوسرے دین کو نہ مل سکا کیونکہ وہ تمام ادیان ناقص اور محدود تھے غرض جبکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے تو کوئی منظمند مسلمان کہلانے سے عار نہیں کر سکتا۔ہاں! اسلام کا دعوی اسی قرآنی دین نے کیا ہے اور اس نے اس عظیم الشان دعوی کے دلائل بھی پیش کئے ہیں اور یہ بات کہنا کہ میں مسلمان نہیں ہوں یہ اس قول کے مساوی ہے کہ میرا دین ناقص ہے۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۷۱ تا ۲۷۴) ایسی کامل کتاب کے بعد کس کتاب کا انتظار کریں جس نے سارا کام انسانی اصلاح کا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پہلی کتابوں کی طرح صرف ایک قوم سے واسطہ نہیں رکھا بلکہ تمام قوموں کی اصلاح چاہی اور انسانی تربیت کے تمام مراتب بیان فرمائے۔وحشیوں کو انسانیت کے آداب سکھائے پھر انسانی صورت بنانے کے بعد اخلاق فاضلہ کا سبق دیا۔یہ قرآن نے ہی دنیا پر احسان کیا کہ طبعی حالتوں اور اخلاق فاضلہ میں فرق کر کے دکھلایا اور جب طبعی حالتوں سے نکال کر اخلاق فاضلہ کے محل عالی تک پہنچایا تو فقط اسی پر کفایت نہ کی بلکہ اور مرحلہ جو باقی تھا یعنی روحانی حالتوں کا مقام۔اس تک پہنچنے کے لئے پاک معرفت کے دروازے کھول دیئے اور نہ صرف کھول دیئے بلکہ لاکھوں انسانوں کو اس تک پہنچا بھی دیا اور اس طرح پر تینوں قسم کی تعلیم جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کمال خوبی سے بیان فرمائی۔پس چونکہ وہ تمام تعلیموں کا جن پر دینی تربیت کی ضرورتوں کا مدار ہے کامل طور پر جامع ہے۔اس لئے یہ دعوی اس نے کیا کہ میں نے دائرہ دینی تعلیم کو کمال تک پہنچایا۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے: اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمْ الإسلام دینا یعنی آج میں نے دین تمہارا کامل کیا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کر دیا اور میں تمہارا دین اسلام ٹھہرا کر خوش ہوا۔یعنی دین کا انتہائی مرتبہ وہ امر ہے جو اسلام کے مفہوم میں پایا جاتا ہے یعنی یہ کہ محض خدا کے لئے ہو جانا اور اپنی نجات اپنے وجود کی قربانی سے چاہنا، نہ اور طریق سے ، اور اس نیت اور اس ارادہ کو عملی طور پر دکھلا دینا۔یہ وہ نکتہ ہے جس پر تمام کمالات ختم ہوتے ہیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۷، ۳۶۸)