تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 411 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 411

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بالصُّلِحِينَ ۱۰۲ ۴۱۰ سورة يوسف انْتَ وَلِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَ الْحِقْنِي بِالصَّلِحِینَ یعنی اے میرے خدا تو دنیا اور آخرت میں میر ا متولی ہے۔مجھے اسلام پر وفات دے اور اپنے نیک بندوں کے ساتھ ملا دے۔( تذكرة الشہادتین ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۲۷) ایسی نظیر میں مجھے تین سو سے بھی زیادہ احادیث میں سے ملیں جن سے ثابت ہوا کہ جہاں کہیں توفی کے لفظ کا خدا فاعل ہو اور وہ شخص مفعول یہ ہو جس کا نام لیا گیا ہے تو اس جگہ صرف مار دینے کے معنی ہیں نہ اور کچھ۔مگر با وجود تمام تر تلاش کے ایک بھی ایسی حدیث مجھے نہ ملی جس میں توفی کے فعل کا خدا فاعل ہو اور مفعول یہ علم ہو یعنی نام لے کر کسی شخص کو مفعول یہ ٹھہرایا گیا ہو اور اس جگہ بجز مارنے کے کوئی اور معنی ہوں۔اسی طرح جب قرآن شریف پر اول سے آخر تک نظر ڈالی گئی تو اس سے بھی یہی ثابت ہوا جیسا کہ آیت تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَالْحِقْنِي بِالصّلِحِينَ اور آیت وَ اِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ وغیرہ آیات سے (براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۷۹) ثابت ہے۔قُلْ هَذِهِ سَبِيلَ ادْعُوا إِلَى اللهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِى وَسُبُحْنَ اللَّهِ وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔(1۔9) کہہ کہ یہ میری راہ ہے۔میں اللہ کی طرف بصیرت کاملہ کے ساتھ بلاتا ہوں۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات، روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۴۲۶) حَتَّى إِذَا اسْتَيْسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا جَاءَهُمْ نَصْرُنَا فَنْيَ مَنْ نَّشَاءُ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ۔بعض پیشگوئیاں باریک اسرار اپنے اندر رکھتی ہیں اور دقیق امور کی وجہ سے ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی ہیں جو دور بین آنکھیں نہیں رکھتے اور موٹی موٹی باتوں کو صرف سمجھ سکتے ہیں۔ایسی ہی پیشگوئیوں پر عموماً تکذیب ہوتی ہے اور جلد باز اور شتاب کار کہہ اٹھتے ہیں کہ وہ پوری نہیں ہوئیں۔اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا۔ان پیشگوئیوں میں لوگ شبہات پیدا کرتے ہیں مگر فی الحقیقت وہ پیشگوئیاں