تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 410
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۹ سورة يوسف بھی ہو اور حواس خمسہ اس کے کام بھی کر رہے ہوں اور ایک ایسی ہوا چلے کہ نئے حواس اسے مل جاویں جن سے وہ عالم غیب کے نظارے دیکھ لے۔وہ جو اس مختلف طور سے ملتے ہیں کبھی بھر میں کبھی شامہ ( سونگھنے ) میں کبھی سمع میں۔شامہ میں اس طرح جیسے کہ حضرت یوسف کے والد نے کہا: لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْ لَا آن تقدُونِ ( کہ مجھے یوسف کی خوشبو آتی ہے اگر تم یہ نہ کہو کہ بوڑھا بہک گیا ) اس سے مراد وہی نئے حواس ہیں جو کہ یعقوب کو اس وقت حاصل ہوئے اور انہوں نے معلوم کیا کہ یوسف زندہ موجود ہے اور ملنے والا ہے اس خوشبو کو دوسرے پاس والے نہ سونگھ سکے کیونکہ ان کو وہ حواس نہ ملے تھے جو کہ یعقوب کو ملے۔قالوا تَاللهِ اِنَّكَ لَفِي ضَلَلِكَ الْقَدِيمِ البدر جلد ۴ نمبر ۸ مورخه ۱۳ / مارچ ۱۹۰۵ء صفحه ۲) ضال کے معنی گمراہ نہیں ہے بلکہ انتہائی درجہ کے تعشق کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ حضرت یعقوب کی نسبت اسی کے مناسب یہ آیت ہے إِنَّكَ لَفِي ضَلَلِكَ الْقَدِيمِ۔سو یہ دونوں لفظ ظلم اور ضلالت اگر چہ ان معنوں پر بھی آتے ہیں کہ کوئی شخص جادہ اعتدال اور انصاف کو چھوڑ کر اپنے شہوات نفض یہ یا بہیمیہ کا تابع ہو جاوے لیکن قرآن کریم میں عشاق کے حق میں بھی آئے ہیں جو خدا تعالیٰ کے راہ میں عشق کی مستی میں اپنے نفس اور اس کے جذبات کو پیروں کے نیچے چل دیتے ہیں۔اسی کے مطابق حافظ شیرازی کا یہ شعر ہے۔آسماں بار امانت نتوانست کشید قرعه فال بنام من دیوانه زدند اسی دیوانگی سے حافظ صاحب حالت تعشق اور شدت حرص اطاعت مراد لیتے ہیں۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۷۳) ضلالت کے یہ بھی معنے ہیں کہ افراط محبت سے ایک شخص کو ایسا اختیار کیا جائے کہ دوسرے کا عزت کے ساتھ نام سننے کی بھی برداشت نہ رہے جیسا کہ اس آیت میں بھی یہی معنے مراد ہیں کہ إِنَّكَ لَفِي ضَلِكَ (تحفہ گولر و سید، روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۲۶۹ حاشیہ ) الْقَدِيمِ - ج رَبِّ قَدْ أَتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ قف السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ اَنْتَ وَلِيّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَالْحِقْنِى