تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 380
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۰ سورة هود سے شقی ہو کر یہ اختلاف قیامت تک برابر قائم رہے۔(احکام جلد ۱۲ نمبر ۲۴ مورخه ۱٫۲ پریل ۱۹۰۸ صفحه ۳) خُلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَقَالُ لما يُريده وَإِنْ قُلْتَ: فَمَا بَالُ النَّاقِصِينَ اگر تو یہ کہے کہ ان ناقص انسانوں کا کیا حال ہوگا جو ناقص الَّذِيْنَ مَاتُوا عَلى حَالَةِ النُّقْصَانِ حالت میں مر گئے اور اس دنیا سے گناہوں کے بوجھ لے کر وَانْتَقَلُوا مِنْ هذِهِ الدُّنْيَا مَعَ أَثْقَالِ گزر گئے۔کیونکہ وہ اب دوبارہ دنیا میں واپس نہیں بھیجے الْعِصْيَانِ فَإِنَّهُمْ مَا يُرَدُّونَ إِلَى الدُّنْيَا جائیں گے تا تدارک مافات کرسکیں۔پس وہ کس طرح کامل لِيَتَدَارَكُوا مَا فَاتَ فَكَيْفَ يُكَتَلُونَ ہو کر نجات پائیں گے۔یا انہیں جنت میں غیر مکمل حالت وَيَجِدُونَ النَّجَاةَ، أَوْ يُدْخَلُونَ فِي الْجَنَّةِ میں ہی داخل کیا جائے گا یا انہیں ہمیشہ عذاب میں چھوڑ دیا غَيْرَ مُكَمَّلِيْنَ، أَوْ يُتْرَكُونَ إِلَى الأَبدل جائے گا۔اس کے جواب میں سنو! ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں مُعَذِّبِينَ فَاسْمَعْ إِنَّنَا نَعْتَقِدُ بأن کہ جہنم نا قصوں کو کامل کرنے کا ذریعہ ہے اور غافلوں کو جَهَنَّمَ مُكَيْلَةٌ لِلنَّاقِصِينَ وَمُنهَةٌ متنبہ کرتی ہے اور جو سوئے ہوئے ہیں ان کو جگاتی ہے۔لِلْعَافِلِينَ، وَمُوْقِظَةٌ لِلنَّائِمِينَ وَسَماها اس لئے اللہ تعالیٰ نے جہنم کا نام ام الداخلین رکھا ہے الله أُمَّ الدَّاخِلِينَ بما ترسٹھ کیونکہ وہ ان کی اسی طرح تربیت کرے گی جس طرح مائیں كَالأُمَّهَاتِ لِلْبَنِينَ وَنَعْتَقِدُ أَنَّ كُلّ بیٹوں کی کرتی ہیں۔اور ہم یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ ایک يَكُونُ يَوْمَئِذٍ حَدِيدًا بَعْدَ بُرْهَةٍ عرصہ کے بعد وہ وقت بھی آئے گا جب ہر آنکھ خوب دیکھنے بَصَرٍ مِنَ الزَّمَانِ وَيَكُونُ كُلُّ شَفِي سَعِيدًا والی ہوگی ہر شقی زمانہ کی چند صدیوں کے بعد نیک بخت بَعْدَ حُقُب مِنَ الدَّوَرَانِ، وَلَا يَلْبَعُونَ ہو جائے گا اور وہ لوگ جہنم میں چند صدیاں ہی ٹھہریں گے إلَّا أَحْقابًا في النيران، إلَّا مَا شَاءَ اللہ ہاں جتنا عرصہ خدا چاہے گا۔مگر ہمیں اس زمانہ کی حد بندی کی مِنْ طُولِ الزَّمَانِ، فَإِنَّا مَا أُعْطِيْنَا عِلْمَ تصریح کا علم نہیں دیا گیا۔پس انسان کی کمزوری کے تَحْدِيدِهِ بِتَصْرِيحِ الْبَيَانِ فَهُوَ زَمَانٌ پیش نظر وہ زمانہ ابدی ہی کہلائے گا اور اگر اللہ تعالی کے أَبَدِي نِسْبَةً إِلى ضُعْفِ الإِنْسَانِ احسانوں پر نظر کی جائے تو وہ زمانہ محدود قرار پائے گا اور وَمَحْدُودُ نَظَرًا عَلَى مِنَنِ الْمَنَانِ وَلَا دوزخیوں کو سچ مچ ہمیشہ کے لئے اندھا نہیں چھوڑا جائے گا