تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 379
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۹ سورة هود وَلَا حَظّ لِلشَّقِي إِلَّا مِنْ تَجَليَّاتِ العَظمُوتِ ثبت الہی کی تجلیات کے کوئی حصہ نہیں ملتا کیونکہ اس کی وَالْهَيْبَةِ، فَإِنَّ فِطْرَتَهُ لَا ترى آيَاتِ الرَّحْمَةِ۔فطرت رحمت کے نشانوں کو نہیں دیکھ سکتی اور جذبات اور وَلَا تَشُمُّ رِيحَ الْجَنَّبَاتِ وَالْمَحَبَّةِ، وَلَا محبت کی خوشبو کو نہیں سونگھ سکتی اور نہیں جانتی کہ صفائی تَدْرِى مَا الْمُصَافَاةُ وَالصَّلاحُ وَالْأُنْسُ قلب، درستی اور صلاحیت اور انس وانشراح کیا ہیں کیونکہ وَالْإِنْشِرَاحُ فَإِنَّهَا مُمْتَلِةٌ بِظُلُمَاتٍ وہ تاریکیوں سے بھر پور ہے۔پس اس پر برکات کے فَكَيْفَ تَنَالُ بِهَا أَنْوَارُ بَرَكَاتٍ، بَلْ نَفْسُ انوار کیسے نازل ہو سکتے ہیں بلکہ شقی کے دل میں تند ہوا کی الشَّفِي تَتَمَوجُ تَمَوج الزيج الْعَاصِفَةِ طرح تحریکات پیدا ہوتی ہیں اور اس کے جذبات اسے وَتَشْغَلُه جَلْبَاتُهَا عَن رُؤْيَةِ الْحَق حق اور حقیقت کی رؤیت سے غافل رکھتے ہیں۔پس وہ وَالْحَقِيقَةِ، فَلَا يَجِينُ كَأَهْلِ السَّعَادَةِ رَاغِبًا اہلِ سعادت کی طرح مامور کے پاس معرفت کے حصول کی خاطر نہیں آتا۔( ترجمہ از مرتب ) فِي الْمَعْرِفَةِ ( سرّ الخلافة ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۵۶) ایمان کی حقیقت کچھ نہ کچھ مخفی رہنا ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے مِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ یہ می دونوں اسی سے بنتے ہیں۔سعید جلد بازی نہیں کرتے بلکہ حسن ظن اور صبر سے کام لے کر ایمان لاتے ہیں اور جوشقتی ہوتے ہیں وہ جلد بازی سے کام لے کر اعتراض کرتے ہیں۔الحکام جلدے نمبر ا مورخہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۱۱) فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ یعنی انسان بلحاظ اپنی استعدادوں کے دو طرح کے ہیں۔ایک تو وہ گروہ جس کو ایسے سامانوں کے جمع کرنے میں اور ایسے اعمال بجالانے کی توفیق ہوتی ہے جو فیوض و برکات الہی کے انوار کے جاذب ہوتے ہیں اور وہ سعید کے نام سے پکارے جاتے ہیں۔دوسرے وہ جن کے اعمال بد اور خبث باطن ان کی ترقیوں کے آگے روک ہو کر ان کو اعمال صالحات اور خدائی فیوض و برکات سے دور و مہجور کر دیتے ہیں۔اب بھی دیکھ لو کہ خوب زور سے تائیدات سماوی اور نشانات کی ایک بارش ہورہی ہے اور ایک سیلاب کی طرح ترقی ہو رہی ہے مگر اس میں بھی وہی داخل ہو سکتے ہیں جن کی روحوں میں سعادت کا حصہ ہے۔شقی اور بد بخت لوگ باوجود ہزار ہا نشانات کے دیکھنے کے ان میں بھی وساوس شیطانی کو داخل کر کے سعادت اور قبول حق سے محروم رہ جاتے ہیں اور خدا کا بھی یہ منشا ہے کہ بعض سعادت کی وجہ سے سعید اور بعض شقاوت کی وجہ