تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 358
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۸ سورة يونس خبر دار ہو یعنی یقینا سمجھ کہ جو لوگ اللہ ( جل شانہ ) کے دوست ہیں۔یعنی جو لوگ خدائے تعالیٰ سے کچی محبت رکھتے ہیں اور خدائے تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے تو ان کی یہ نشانیاں ہیں کہ نہ ان پر خوف مستولی ہوتا ہے کہ کیا کھا ئیں گے یا کیا پئیں گے یا فلاں بلا سے کیوں کر نجات ہوگی کیونکہ وہ تسلی دیئے جاتے ہیں اور نہ گذشتہ کے متعلق کوئی حزن و اندوہ انہیں ہوتا ہے کیونکہ وہ صبر دیئے جاتے ہیں۔دوسری یہ نشانی ہے کہ وہ ایمان رکھتے ہیں یعنی ایمان میں کامل ہوتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں یعنی خلاف ایمان وخلاف فرماں برداری جو باتیں ہیں ان سے بہت دور رہتے ہیں۔(ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۷۹) الَّذِينَ آمَنُوا وَ كَانُوا يَتَّقُونَ لَهُمُ الْبُشْرى فى الحيوةِ الدُّنْيَا وَ في الْآخِرَةِ لا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ۔۶۵ فِي وہی لوگ ہیں جو ایمان لائے یعنی اللہ رسول کے تابع ہو گئے اور پھر پرہیز گاری اختیار کی۔ان کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس دنیا کی زندگی اور نیز آخرت میں بشری ہے یعنی خدا تعالیٰ خواب اور الہام کے ذریعہ سے اور نیز مکاشفات سے ان کو بشارتیں دیتا رہے گا۔خدا تعالیٰ کے وعدوں میں مختلف نہیں اور یہ بڑی کامیابی ہے جو ان کے لئے مقرر ر ہو گئی یعنی اس کامیابی کے ذریعہ سے ان میں اور غیروں میں فرق ہو جائے گا اور جو بچے نجات یافتہ نہیں ان کے مقابل میں دم نہیں مارسکیں گے۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۴۵) ان کو اسی زندگی میں بشارتیں ملیں گی یعنی وہ خدا سے نور الہام کا پائیں گے اور بشارتیں سنیں گے جن میں ان کی بہتری اور مدح اور تنا ہوگی اور خدا ان کی سچائیوں کو روشن کرے گا۔خدا نے جو جو وعدہ کیا ہے وہ سب پورا ہوگا اور کسی نوع کی تبدیل واقع نہیں ہوگی۔یہی سعادت عظمیٰ ہے کہ جو ان لوگوں کوملتی ہے کہ جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔( براہینِ احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۶۵،۲۶۴ حاشیہ نمبر۱۱) مسلمانوں کو سچی خوا ہیں کثرت سے آتی ہیں جیسا ان کی نسبت خدا تعالیٰ نے آپ وعدہ دے رکھا ہے اور فرمایا ہے: لَهُمُ الْبُشْرى في الحيوةِ الدُّنْیا لیکن کفار اور منکرین اسلام کو اس کثرت سے سچی خواہیں ہرگز