تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 352
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۲ سورة يونس لا بغيكُمُ عَلَى اَنْفُسِكُمْ مَتَاعَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا 199196 كنتم تعملون پھر جب خدا تعالیٰ ان کو نجات دے دیتا ہے تو پھر اس ظلم اور فساد کی طرف رجوع کرتے ہیں جس پر پہلے جمے ہوئے تھے۔b انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۳) إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا كَمَاءِ اَنْزَلْنَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ ، حَتَّى إِذَا اَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَيَّنَتُ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَدِرُونَ عَلَيْهَا أَنهَا أَمْرُنَا لَيْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَهَا حَصِيدًا كَانْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ كَذلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ اس زندگی دنیا کی مثال یہ ہے کہ جیسے اس پانی کی مثال ہے جس کو ہم آسمان سے اتارتے ہیں پھر زمین کی روئیدگی اس سے مل جاتی ہے پھر وہ روئیدگی بڑھتی اور پھولتی ہے اور آخر کائی جاتی ہے۔یعنی کھیتی کی طرح انسان پیدا ہوتا ہے اول کمال کی طرف رخ کرتا ہے پھر اس کا زوال ہوتا جاتا ہے۔کیا اس قانون قدرت سے مسیح باہر رکھا گیا ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۰) لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَر وَلَا ذِلَّةٌ أولَبِكَ اَصْحَبُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ۔للَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی یعنی ان نیکیوں کو بھی سنوار سنوار کر کرتے ہیں۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲ ۲ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۶ صفحه ۲) وَالَّذِينَ كَسَبُوا السَّيَاتِ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ مَا لَهُمْ مِنَ ج اللهِ مِنْ عَاصِمٍ كَأَنَّمَا أَغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعَا مِنَ الَّيْلِ مُظْلِما أُولَبِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ بدی کی جزا اسی قدر بدی ہے اور ان کو ذلت پہنچے گی یعنی اسی قسم کی ذلت اور اسی مقدار کی ذلت جس کے