تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 351
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبیوں کی محبت اور معرفت پیدا ہوتی ہے۔۳۵۱ سورة يونس الحکم جلد ۹ نمبر ۱۴ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۵ء صفحه ۲) وَ يَقُولُونَ لَوْ لَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ أَيَةٌ مِّنْ رَّبِّهِ فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلَّهِ فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشان تائید دین کا نازل نہ ہوا۔سوان کو کہہ کہ علم غیب خدا کا خاصہ ہے پس تم نشان کے منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔(براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۴ حاشیہ نمبر ۱۱) ج هُوَ الَّذِى يُسَيَرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ حَتَّى إِذَا كُنْتُمُ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بهِمْ بِرِيْج طَيْبَةٍ وَفَرِحُوا بِهَا جَاءَتْهَا رِيحٌ عَاصِف وَجَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِن كُلّ لا مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أَحِيطَ بِهِمْ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَبِنْ أَنْجَيْتَنَا : مِنْ هذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّكِرِينَ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور کشتی کے سواروں کو ایک خوش ہوا کے ساتھ لے کر کشتیاں چلتی ہیں اور وہ ان کشتیوں کے چلنے سے بہت خوش ہوتے ہیں کہ یک دفعہ ایک تند ہوا چلنی شروع ہوتی ہے اور ہر طرف سے ان پر موج آتی ہے اور ظن غالب یہ ہو جاتا ہے کہ بس اب ہم گھیرے گئے یعنی مارے گئے تب اس وقت اخلاص سے خدا تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں کہ اے خدائے قادر ! اگر اب ہمیں نجات دے تو ہم شکر گزار ہوں گے۔انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۳) ان آیات کا حاصل مطلب یہی ہے کہ جب بعض گنہ گاروں کو ہلاک کرنے کے لئے خدا تعالیٰ اپنے قہری ارادہ سے اس دریا میں صورت طوفان پیدا کرتا ہے جس میں ان لوگوں کی کشتی ہو تو پھر ان کی تضرع اور رجوع پر ان کو بچا لیتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ پھر وہ مفسدانہ حرکات میں مشغول ہوں گے۔(انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۱۹،۱۱۸) فَلَمَّا اَنْجُهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ، يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا