تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 343 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 343

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۳ سورة يونس سورۃ یونس یعنی جب انسان کو کوئی دکھ پہنچتا ہے تو ہماری جناب میں دعائیں کرنے لگتا ہے کروٹ کی حالت میں اور بیٹھ کر اور کھڑے ہو کر اور جب ہم اس دکھ کو اس سے دفع کر دیتے ہیں تو ایسا چلا جاتا ہے کہ گویا نہ بھی اس کو دکھ پہنچا اور نہ کبھی دعا کی۔انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۲، ۴۳) ثُمَّ جَعَلْنَكُمْ خَلِيفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ۔قرآن شریف کی رُو سے سلسلہ محمد یہ سلسلہ موسویہ سے ہر یک نیکی اور بدی میں مشابہت رکھتا ہے۔اسی کی طرف ان آیتوں میں اشارہ ہے کہ ایک جگہ یہود کے حق میں لکھا ہے: فيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ (الاعراف: ۱۳۰) دوسری جگہ مسلمانوں کے حق میں لکھا ہے : لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ۔ان دونوں آیتوں کے یہ معنے ہیں کہ خدا تمہیں خلافت اور حکومت عطا کر کے پھر دیکھے گا کہ تم راستبازی پر قائم رہتے ہو یا نہیں۔ان آیتوں میں جو الفاظ یہود کے لئے استعمال کئے ہیں وہی مسلمانوں کے لئے۔یعنی ایک ہی آیت کے نیچے ان دونوں کو رکھا ہے۔پس ان آیتوں سے بڑھ کر اس بات کے لئے اور کون سا ثبوت ہوسکتا ہے کہ خدا نے بعض مسلمانوں کو یہود قرار دے دیا ہے اور صاف اشارہ کر دیا ہے کہ جن بدیوں کے یہود مرتکب ہوئے تھے یعنی علماء اُن کے۔اس اُمت کے علماء بھی انہیں بدیوں کے مرتکب ہوں گے۔اور اسی مفہوم کی طرف آیت: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں بھی اشارہ ہے کیونکہ اس آیت میں باتفاق کل مفسرین مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مُراد وہ یہود ہیں جن پر حضرت عیسی علیہ السلام کے انکار کی وجہ سے غضب نازل ہوا تھا۔اور احادیث صحیحہ میں مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد وہ یہود ہیں جو مور وغضب الہی دنیا میں ہی ہوئے تھے۔اور قرآن شریف یہ بھی گواہی دیتا ہے کہ یہود کو مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ٹھہرانے کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام کی زبان پر لعنت جاری ہوئی تھی۔پس یقینی اور قطعی ط می طور پر مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد وہ یہود ہیں جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو سولی پر ہلاک کرنا چاہا تھا۔اب خدا تعالیٰ کا یہ دعا سکھلانا کہ خدا یا ایسا کر کہ ہم وہی یہودی نہ بن جائیں جنہوں نے عیسی کو قتل کرنا چاہا تھا صاف بتلا رہا ہے کہ امت محمدیہ میں بھی ایک عیسی پیدا ہونے والا ہے۔ورنہ اس دُعا کی کیا ضرورت تھی؟ ( تذكرة الشهادتين ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۳، ۱۴) قرآن شریف کے رُو سے کئی انسانوں کا بروزی طور پر آنا مقدر تھا۔۔۔۔یہودیوں کے بادشاہوں کے اُن مثیلوں کا جو اسلام میں پیدا ہوئے جیسا کہ ان دو بالمقابل آیتوں سے جن کے الفاظ با ہم ملتے ہیں سمجھا جاتا