تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 342

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۲ سورة يونس قرآن شریف اسی وجہ سے ہر ایک دھوکہ دہی کی بات سے محفوظ ہے کہ اُس نے خدا تعالیٰ کے ایسے طور سے صفات بیان کئے ہیں جن سے توحید باری تعالیٰ شرک کی آلائش سے بکی پاک رہتی ہے کیونکہ اول اُس نے خدا تعالیٰ کے وہ صفات بیان کئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کیوں کر وہ انسان سے قریب ہے اور کیوں کر اُس کے اخلاق سے انسان حصہ لیتا ہے ان صفات کا نام تو نشیبی صفات ہیں۔پھر کیونکہ تشبیہی صفات سے یہ اندیشہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو محدود خیال نہ کیا جائے یا مخلوق چیزوں سے مشابہ خیال نہ کیا جائے اس لئے ان اوہام کے دُور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنی ایک دوسری صفت بیان کردی یعنی عرش پر قرار پکڑنے کی صفت جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا سب مصنوعات سے برتر و اعلیٰ مقام پر ہے کوئی چیز اُس کی شبیہ اور شریک نہیں اور اس طرح پر خدا تعالیٰ کی توحید کامل طور پر ثابت ہو گئی۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۲۱، ۱۲۲) وَإِذَا مَسَ الْإِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبَة اَوْ قَاعِدًا أَوْ قَابِمَا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَانَ لَمْ يَدْعُنَا إِلى ضُرٌ مَّسَّهُ كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا اوروور يعملون (١٣) یہ مسلم اور مشہور امر ہے کہ جب ہیبت الہی اپنا جلوہ دکھاتی ہے تو اس وقت فاسق انسان کی اور صورت ہوتی ہے اور جب ہیبت کا وقت نکل جاتا ہے تو پھر اپنی شقاوت فطرتی سے اصلی صورت کی طرف عود کر آتا ہے۔ایسے لوگ بہتیرے تم نے دیکھے ہوں گے کہ جب ان پر کوئی مقدمہ دائر ہو جس سے سخت قید یا پھانسی یا سزائے موت کا خطرہ ہو گو یہ بھی گمان ہو کہ شاید رہا ہو جائیں تو وہ ایسی ہیبت کو مشاہدہ کر کے اپنی فاسقانہ چال چلن کو بدلا لیتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور تو بہ کرتے اور لمبی لمبی دعائیں کرتے ہیں اور پھر جب ان کی اس تضرع کی حالت پر خدا تعالیٰ رحم کر کے ان کو اس بلا سے خلاصی دیتا ہے تو فی الفور ان کے دل میں یہ خیال گزرتا ہے کہ یہ رہائی خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اتفاقی امر ہے تب وہ اپنے فسق میں پہلے سے بھی بدتر ہو جاتے ہیں اور چند روز میں ہی اپنی پہلی عادات کی طرف رجوع کر آتے ہیں۔اس کی اور بھی مثالیں ہیں مگر اس جگہ کلام الہی کافی ہے۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے : وَ إِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِةٍ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَابِمَا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَانْ لَمْ يَدُعُنَا إِلى ضُرَّ مَسَّهُ كَذلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ -