تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 336

سورة يونس تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۶ حمل کے طور پر گرتے ہیں۔حقیقت واقعیہ تک پہنچ سکتا ہے اور جیسا کہ ہم اپنے ذاتی مشاہدہ سے جانتے ہیں بلا شبہ یہ بات صحیح ہے کہ جب خدا تعالیٰ انسانی نطفہ سے کسی بچہ کو رحم میں بنانے کے لئے ارادہ فرماتا ہے تو پہلے مرد اور عورت کا نطفہ رحم میں ٹھہرتا ہے اور صرف چند روز تک ان دونوں منیوں کے امتزاج سے کچھ تغیر طاری ہوکر جمے ہوئے خون کی طرح ایک چیز ہو جاتی ہے جس پر ایک نرم سی جھلی ہوتی ہے یہ چھلتی جیسے جیسے بچہ بڑھتا ہے بڑھتی جاتی ہے یاں تک کہ خاکی رنگ کی ایک تھیلی سی ہو جاتی ہے جو گٹھڑی کی طرح نظر آتی ہے اور اپنی تحمیل خلقت کے دنوں تک بچہ اسی میں ہوتا ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے اور حال کی تحقیقا تیں بھی اس کی مصدق ہیں کہ عالم کبیر بھی اپنے کمال خلقت کے وقت تک ایک گٹھڑی کی طرح تھا جیسا کہ اللہ جلت شانہ فرماتا ہے: اَو لَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّبُوتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلّ شَيْءٍ حَيّ ( الانبياء : ۳۱) الجزو نمبرے یعنی فرماتا ہے کہ کیا کافروں نے آسمان اور زمین کو نہیں دیکھا کہ گٹھڑی کی طرح آپس میں بندھے ہوئے تھے اور ہم نے ان کو کھول دیا۔سو کافروں نے تو آسمان اور زمین بنتا نہیں دیکھا اور نہ ان کی گٹھڑی دیکھی لیکن اس جگہ روحانی آسمان اور روحانی زمین کی طرف اشارہ ہے جس کی گٹھڑی کفار عرب کے روبرو کھل گئی اور فیضان سماوی زمین پر جاری ہو گئے۔اب پھر ہم اپنے پہلے کلام کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ نشین مرد اور عورت کے جو آپس میں مل جاتے ہیں وہ اول مرتبہ تکوین کا ہے۔اور پھر ان میں ایک جوش آکر وہ مجموعه هشتمین جو قوت عاقدہ اور منعقدہ اپنے اندر رکھتا ہے سرخی کی طرف مائل ہو جاتا ہے گویا وہ منی جو پہلے خون سے بنی تھی پھر اپنے اصلی رنگ کی طرف جو خونی ہے عود کر آتی ہے یہ دوسرا درجہ ہے پھر وہ خون جما ہوا جس کا نام علقہ ہے ایک گوشت کا مضغہ ہو جاتا ہے جو انسانی شکل کا کچھ خاکہ نہایت دقیق طور پر اپنے اندر رکھتا ہے یہ تیسرا درجہ ہے اور اس درجہ پر اگر بچہ ساقط ہو جائے تو اس کے دیکھنے سے غور کی نظر سے کچھ خطوط انسان بننے کے اس میں دکھائی دیتے ہیں چنانچہ اکثر بچے اس حالت میں بھی ساقط ہو جاتے ہیں جن عورتوں کو کبھی یہ اتفاق پیش آیا ہے یا وہ دامیہ کا کام کرتی ہیں وہ اس حال سے خوب واقف ہیں پھر چوتھا درجہ وہ ہے جب مضغہ سے ہڈیاں بنائی جاتی ہیں جیسا کہ آیت : فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عظمًا (المؤمنون : ۱۵) بیان فرما رہی ہے۔مگر المضغة پر جو الف لام ہے وہ تخصیص کے لئے ہے جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ تمام مضغہ ہڈی نہیں بن جاتا بلکہ جہاں جہاں ہڈیاں درکار ہیں باذنہ تعالیٰ وہی نرم گوشت کسی قدر صاب ہو کر ہڈی کی صورت بن جاتا ہے اور کسی قدر بدستور نرم گوشت رہتا ہے۔اور اس درجہ نطقتين