تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 335 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 335

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۵ سورة يونس نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحى (الحجر : ٣٠) باعتبار روح عالم صغیر ہے اور بلحاظ شیون وصفات کامله وظلیت تام روح الہی کا مظہر نام ہے۔پھر بعد اس کے انسان کو ہم نے دوسرے طور پر پیدا کرنے کے لئے یہ طریق جاری کیا جو انسان کے اندر نطفہ پیدا کیا اور اس نطفہ کو ہم نے ایک مضبوط تھیلی میں جو ساتھ ہی رحم میں بنتے جاتے ہی جگہ دی۔( قرار مکین کا لفظ اس لئے اختیار کیا گیا کہ تارحم اور تھیلی دونوں پر اطلاق پاسکے ) اور پھر ہم نے نطفہ سے علقہ بنایا اور علقہ سے مضغہ اور مضغہ کے بعض حصوں میں سے ہڈیاں اور ہڈیوں پر پوست پیدا کیا پھر اس کو ایک اور پیدائش دی یعنی روح اس میں ڈال دی۔پس کیا ہی مبارک ہے وہ خدا جو اپنی صنعت کاری میں تمام صناعوں سے بلحاظ حسن صنعت و کمال عجائبات خلقت بڑھا ہوا ہے۔اب دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ بھی اپنا قانون قدرت یہی بیان فرمایا کہ انسان چھ طور کے خلقت کے مدارج طے کر کے اپنے کمال انسانیت کو پہنچتا ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ عالم صغیر اور عالم کبیر میں نہایت شدید تشابہ ہے اور قرآن سے انسان کا عالم صغیر ہونا ثابت ہے اور آیت : لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (التين : ٥) اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ تقویم عالم کی متفرق خوبیوں اور حسنوں کا ایک ایک حصہ انسان کو دے کر بوجہ جامعیت جمیع شمائل و شیون عالم اس کو احسن ٹھہرایا گیا ہے پس اب بوجہ تشابه عالمین اور نیز بوجہ ضرورت تناسب افعال صانع واحد ماننا پڑتا ہے کہ جو عالم صغیر میں مراتب تکوین موجود ہیں وہی مراتب تکوین عالم کبیر میں بھی ملحوظ ہوں اور ہم صریح اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ یہ عالم صغیر جو انسان کے اسم سے موسوم ہے اپنی پیدائش میں چھ طریق رکھتا ہے اور کچھ شک نہیں کہ یہ عالم عالم کبیر کے کوائف مخفیہ کی شناخت کے لئے ایک آئینہ کا حکم رکھتا ہے پس جب کہ اس کی پیدائش کے چھ مرتبے ثابت ہوئے تو قطعی طور پر یہ حکم دے سکتے ہیں کہ عالم کبیر کے بھی مراتب تکوین چھ ہی ہیں جو بلحاظ موثرات سقہ یعنی تجلیات سے جن کے آثار باقیہ نجوم ستہ میں محفوظ رہ گئے ہیں معقولی طور پر متحقق ہوتے ہیں۔اور نجوم ستہ کا اب بھی علوم حکمیہ میں جنین کی تکمیل کے لئے تعلق مانا جاتا ہے چنانچہ سدیدی میں اس کے متعلق ایک مبسوط بحث لکھی ہے۔بعض نادان اس جگہ اس آیت کی نسبت یہ اعتراض پیش کرتے ہیں کہ حال کی طبی تحقیقاتوں کی رو سے یہ طرز بچہ کے بننے کی جو رحم عورت میں بنتا ہے ثابت نہیں ہوتی بلکہ برخلاف اس کے ثابت ہوتا ہے لیکن یہ اعتراض سخت درجہ کی کم فہمی یا صریح تعصب پر مبنی ہے اس بات کے تجربہ کے لئے کسی ڈاکٹر یا طبیب کی حاجت نہیں خود ہر یک انسان اس آزمائش کے لئے وقت خرچ کر کے اور ان بچوں کو دیکھ کر جو تام خلقت یا نا تمام خلقت کی حالت میں پیدا ہوتے ہیں یا سقوط