تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 289

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۹ سورة الانفال سے متنفر کر ا دینا ، شجاعت کے ساتھ صداقت کے لیے خون بہا دینا۔اس کی نظیر کہیں نہ مل سکے گی۔سو یہ مقام حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے صحابہ کا ہے اور ان میں جو آپس میں تالیف و محبت تھی اس کا نقشہ دو فقروں b میں بیان کیا ہے : وَالَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَو أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا اَلَفتَ بَيْنَ قُلُوبِهِم۔یعنی جو تالیف ان میں ہے۔وہ ہر گز پیدا نہ ہوتی۔خواہ سونے کا پہاڑ بھی دیا جاتا۔b ط رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۵۴-۵۵) ہماری کوششیں تو بچوں کا کھیل ہے۔نہ لوگوں کے دلوں سے ہم وہ گند نکال سکتے ہیں جو آج کل دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے، نہ کمال محبت الہی کا ان کے اندر بھر سکتے ہیں، نہ ان کے درمیان باہمی کمال الفت پیدا کر سکتے ہیں جس سے وہ سب مثل ایک وجود کے ہو جائیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے چنانچہ قرن شریف میں صحابہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا ہے: هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ انْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ما الفتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللهَ اَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌہ۔وہ خدا جس نے اپنی نصرت سے اور مومنوں سے تیری تائید کی اور ان کے دلوں میں ایسے الفت ڈالی کہ اگر تو ساری زمین کے ذخیرے خرچ کرتا تو بھی ایسی الفت پیدا نہ کر سکتا لیکن خدا نے ان میں یہ الفت پیدا کر دی وہ غالب اور حکمتوں والا خدا ہے جس خدا نے پہلے یہ کام کیا وہ اب بھی کر سکتا ہے آئندہ بھی اسی پر توکل ہے۔جو کام ہونے والا ہوتا ہے۔اس میں خدا کے فضل کی روح پھونکی جاتی ہے جیسا کہ باغبان اپنے باغ کی آب پاشی کرتا ہے تو وہ تر و تازہ ہوتا ہے۔ایسا ہی خدا تعالیٰ اپنے مرسلین کے سلسلہ کو ترقی اور تازگی عطا فرماتا ہے۔جو فرقے صرف اپنی تدبیر سے بنتے ہیں ان کے درمیان چند روز میں ہی تفرقے پیدا ہو جاتے ہیں جیسا کہ برہمو تھوڑے دن تک ترقی کرتے کرتے آخر رک گئے اور دن بدن نابود ہوتے جاتے ہیں کیونکہ ان کی بنا صرف انسانی خیال پر ہے۔( بدر جلد نمبر ۲۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ء صفحه ۲) حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت قوم عرب کے تمدن اور اخلاق اور روحانیت کا کیا حال تھا گھر گھر میں جنگ اور شراب نوشی اور زنا اور لوٹ مار غرض ہر ایک بدی موجود تھی۔کوئی نسبت اور تعلق خدا کے ساتھ اور اخلاق فاضلہ کے ساتھ کسی کو حاصل نہ تھا۔ہر ایک فرعون بنا پھرتا تھا لیکن آنحضرت کے آنے سے جب اسلام میں داخل ہوئے تو ایسی محبت الہی اور وحدت کی روح ان میں پیدا ہوگئی کہ ہر ایک خدا کی راہ