تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 270
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۰ سورة الانفال لِيُحِقَ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ ® تا سچے مذہب کی سچائی اور جھوٹے مذہبوں کا جھوٹ ثابت کر کے دکھلا دے اگر چہ مجرم لوگ کراہت ہی (براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۷ حاشیہ نمبر ۱۱) کریں۔اذ يُوحَى رَبُّكَ إِلَى الْمَلَكَةِ إِنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا سَأَلْقَى فِي قُلُوبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوا فَوقَ الْأَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ أَى هَاتُوا قُلُوبَهُمْ وَأَلْقُوا فِيهَا یعنی ان کو دلوں پر اثر انداز ہو جاؤ اور ان میں ثابت كَلِمَاتِ التَّثْبِيتِ يَعْنِي قُولُوا لا قدم رہنے کے کلمات ڈالو یعنی ان سے کہو کہ تم خوف نہ کھاؤ تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَكَمِثْلِهِ مِن كَلِمَاتٍ اور تم غم نہ کرو اور اسی قسم کے دوسرے کلمات جن کے ساتھ ان تَطْمَئِنُ بِهَا قُلُوبُهُمْ فَهْذِهِ الْآيَاتُ کے قلوب مطمئن ہو جائیں۔پس یہ تمام آیات دلالت کرتی كُلُهَا تَدُلُّ عَلى أَنَّ اللهَ قَد يُكَلِّمُ أَوْلَيَاء 6 ہیں اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء سے کبھی کبھی کلام کرتا وَيُخَاطِبُهُمْ لِيَزْدَادَ يَقِينُهُمْ وَبَصِيرَ عُهُمْ ہے اور ان سے مخاطب ہوتا ہے تا ان کا یقین اور بصیرت زیادہ ہو اور تا وہ اطمینان یافتہ ہو جائیں۔( ترجمہ از مرتب) وَلِيَكُونُوا مِنَ الْمُطْمَئِيِّينَ۔(حمامة البشری، روحانی خزائن جلد۷ صفحه ۲۹۹) ص فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَكِنَّ اللهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَى وَلِيُبَلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاء حَسَنًا إِنَّ اللهَ سَمِيع وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَلی تو نے نہیں چلایا۔خدا نے ہی چلا یا جب کہ تو نے چلایا۔سرمه چشم آرمیده روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۷۶ حاشیه ) ہمارے سید و مولی سید الرسل حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی اور وہ مٹھی کسی دعا کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت سے چلائی مگر اس مٹھی نے خدائی طاقت دکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اُس کا اثر پڑا کہ کوئی ان میں سے ایسا نہ رہا کہ جس