تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 254 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 254

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۴ سورة الاعراف عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ ربہ یعنی جس نے اپنے نفس کو شناخت کر لیا اُس نے اپنے رب کو شناخت کرلیا۔پھر ایک اور جگہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : الستُ بِرَنِكُمْ قَالُوا بَلی یعنی میں نے رُوحوں کو پوچھا کہ کیا میں تمہارا پیدا کرنے والا نہیں تو تمام روحوں نے یہی جواب دیا کہ کیوں نہیں۔اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ روحوں کی فطرت میں یہی منقش اور مرکوز ہے کہ وہ اپنے پیدا کنندہ کی قائل ہیں اور پھر بعض انسان غفلت کی تاریکی میں پڑکر اور پلید تعلیموں سے متاثر ہو کر کوئی دہریہ بن جاتا ہے اور کوئی آریہ اور اپنی فطرت کے مخالف اپنے پیدا کنندہ سے انکار کرنے لگتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ہر شخص اپنے باپ اور ماں کی محبت رکھتا ہے یہاں تک کہ بعض بچے ماں کے مرنے کے بعد مر جاتے ہیں پھر اگر انسانی روحیں خدا کے ہاتھ سے نہیں نکلیں اور اس کی پیدا کردہ نہیں تو خدا کی محبت کا نمک کس نے اُن کی فطرت پر چھڑک دیا ہے اور کیوں انسان جب اُس کی آنکھ کھلتی ہے اور پردہ غفلت دُور ہوتا ہے تو دل اُس کا خدا کی طرف کھینچا جاتا ہے اور محبت الہی کا دریا اس کے صحن سینہ میں بہنے لگتا ہے آخر ان روحوں کا خدا سے کوئی رشتہ تو ہوتا ہے جو اُن کو محبت الہی میں دیوانہ کی طرح بنا دیتا ہے وہ خدا کی محبت میں ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ تمام چیزیں اس کی راہ میں قربان کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ وہ عجیب تعلق ہے ایسا تعلق نہ ماں کا ہوتا ہے نہ باپ کا۔پس اگر بقول آریوں کے رُوحیں خود بخود ہیں تو یہ تعلق کیوں پیدا ہو گیا اور کس نے یہ محبت اور عشق کی قوتیں خدا تعالیٰ کے ساتھ روحوں میں رکھ دیں یہ مقام سوچنے کا مقام ہے اور یہی مقام ایک سچی معرفت کی کنجی ہے۔چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۶۶، ۱۶۷) انسان تعتبر ابدی کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور طبعی طور پر اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت موجود ہے پس اس وجہ سے انسان کی روح کو خدا تعالیٰ سے ایک تعلق ازلی ہے جیسا کہ آیت : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى (برائین احمدیہ حصہ باشیم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۰۰) سے ظاہر ہوتا ہے۔روحوں کے قومی جن میں خدا تعالیٰ کا عشق پیدا ہوا ہے بزبانِ حال گواہی دے رہے ہیں جو وہ خدا کے b ہاتھ سے نکلے ہیں۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۲۰) انسان کی فطرت ہی میں اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ - قَالُوا بَلی نقش کیا گیا ہے۔اور تثلیث سے کوئی مناسبت حیات انسانی اور تمام اشیائے عالم کو نہیں ایک قطرہ پانی کا دیکھو تو گول نکالتا ہے مثلث کی شکل میں نہیں نکلتا اس سے بھی صاف طور پر یہی پایا جاتا ہے کہ توحید کا نقش قدرت کی ہر چیز میں رکھا ہوا ہے خوب غور سے دیکھو کہ