تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 221

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۱ سورة الاعراف خدا پھر محدود ہے؟ اس لئے اس دھوکا کے دور کرنے کے لئے بطور جواب کے کہا گیا ہے کہ وہ تو عرش پر ہے۔جہاں مخلوقات کا دائرہ ختم ہو جاتا ہے اور وہ کوئی اس قسم کا تخت نہیں ہے جو سونے چاندی وغیرہ کا بنا ہوا ہو اور اس پر جواہرات وغیرہ جڑے ہوئے ہوں بلکہ وہ تو ایک اعلیٰ ارفع اور وراء الوراء مقام ہے اور اس قسم کے استعارات قرآن مجید میں بکثرت پائے جاتے ہیں جیسے فرما یا اللہ تعالیٰ نے : مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى وَ أَضَلُّ سَبِيلًا ( بنی اسرائیل : ۱۸۳۷ / ۱۵ ظاہراً تو اس کے معنی یہی ہیں کہ جو اس جگہ اندھے ہیں وہ آخرت کو بھی اندھے ہی رہیں گے مگر یہ معنی کون قبول کرے گا۔جبکہ دوسری جگہ پر صاف طور ا پر لکھا ہے کہ خواہ کوئی سوجا کھا ہو۔خواہ اندھا جو ایمان اور اعمال صالحہ کے ساتھ جاوے گا وہ تو بینا ہوگا۔لیکن جو اس جگہ ایمانی روشنی سے بے نصیب رہے گا اور خدا کی معرفت حاصل نہیں کر لے گا وہ آخر کو بھی اندھا ہی رہے گا۔ا حکم جلد ۱۲ نمبر امورخه ۲ /جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۶) عرش الہی ایک وراء الوراء مخلوق ہے۔جو زمین سے اور آسمان سے بلکہ تمام جہات سے برابر ہے۔یہ نہیں کہ نعوذ باللہ ! عرش الہی آسمان سے قریب اور زمین سے دور ہے لعنتی ہے وہ شخص جو ایسا اعتقاد رکھتا ہے۔عرش مقام تنزیہ ہے اور اسی لئے خدا ہر جگہ حاضر ناظر ہے جب کہ فرماتا ہے: هُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ (الحديد :۵) اور مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَى ثَلَثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمُ (المجادلة : ۱۷) اور فرماتا ہے کہ وَنَحْنُ أَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ( ق : ۱۷ )۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۰ مورخه ۲۲ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۲) (ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ کے متعلق سوال کے جواب میں فرمایا ) اس (عرش) کے بارے میں لوگوں کے مختلف خیالات ہیں۔کوئی تو اسے مخلوق کہتا ہے اور کوئی غیر مخلوق لیکن اگر ہم غیر مخلوق نہ کہیں تو پھر استویٰ باطل ہوتا ہے اس میں شک نہیں ہے کہ عرش کے مخلوق یا غیر مخلوق ہونے کی بحث ہی عبث ہے۔یہ ایک استعارہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اعلیٰ درجے کی بلندی کو بیان کیا ہے۔یعنی ایک ایسا مقام جو کہ ہر ایک جسم اور ہر ایک نقص سے پاک ہے اور اس کے مقابلہ پر یہ دنیا اور تمام عالم ہے کہ جس کی انسان کو پوری پوری خبر بھی نہیں ہے ایسے مقام کو قدیم کہا جا سکتا ہے لوگ اس میں حیران ہیں اور غلطی سے اسے ایک مادی شے خیال کرتے ہیں اور قدامت کے لحاظ سے جو اعتراض لفظ شعر کا آتا ا ہے تو بات یہ ہے کہ قدامت میں شعر آجاتا ہے جیسے قلم ہاتھ میں ہے تو جیسے قلم حرکت کرتا ہے ویسے ہاتھ حرکت کرتا ہے مگر ہاتھ کو تقدم ہوتا ہے آریہ لوگ خدا کی قدامت کے متعلق اہل اسلام پر اعتراض کرتے ہیں