تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 220
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٢٢٠ سورة الاعراف ہے۔اللہ تعالیٰ استعارات کے ذریعہ کلام کرتا ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی کیفیت کو حوالہ بخدا کرتے ہیں۔پس ہمارا مذہب عرش کے متعلق یہی ہے کہ اس کے مخلوق یا غیر مخلوق ہونے کی بحث میں دخل نہ دو۔ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ وہ اعلیٰ درجہ کی جلالی و جمالی تجلیات کا مظہر ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۱۴، ۱۵ مورخه ۳۰/اپریل و ۰ ارمئی ۱۹۰۴ صفحه ۳) عرش کی نسبت مخلوق اور غیر مخلوق کا جھگڑا عبث ہے۔احادیث سے اس کا جسم کہیں ثابت نہیں ہوتا۔ایک قسم کے علو کے مقام کا اظہار عرش کے لفظ سے کیا گیا ہے۔اگر اسے جسم کہو تو پھر خدا کو بھی مجسم کہنا چاہیے۔یاد رکھنا چاہیے کہ اس کو علو جسمانی نہیں کہ جس کا تعلق جہات سے ہو بلکہ یہ روحانی علو ہے۔عرش کی نسبت مخلوق اور غیر مخلوق کی بحث بھی ایک بدعت ہے۔جو کہ پیچھے ایجاد کی گی۔صحابہ نے اس کو مطلق نہیں چھیڑا۔تو اب یہ لوگ چھیٹر کرنا فہم لوگوں کو اپنے گلے ڈالتے ہیں۔لیکن عرش کے اصل معنے اس وقت سمجھ آسکتے ہیں جبکہ خدا تعالیٰ کی دوسری تمام صفات پر بھی ساتھ ہی نظر ہو۔انکم جلد ۸ نمبر ۲۶،۲۵ مورخه ۳۱ جولائی۔۱۰ راگست ۱۹۰۴ صفحه ۱۴) بعض لوگ نا سمجھی سے عرش کو جو ایک مخلوق چیز مانتے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں۔ان کو سمجھنا چاہیے کہ عرش کوئی ایسی چیز نہیں جس کو مخلوق کہہ سکیں وہ تو تقدس اور تنزہ کا ایک وراء الوراء مقام ہے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ جیسے ایک بادشاہ تخت پر بیٹھا ہوا ہوتا ہے۔ویسے ہی خدا بھی عرش پر جلوہ گر ہے۔جس سے لازم آتا ہے کہ محدود ہے لیکن ان کو یا درکھنا چاہیے کہ قرآن مجید میں اس بات کا ذکر تک نہیں کہ عرش ایک تخت کی طرح ہے جس پر خدا بیٹھا ہے کیونکہ نعوذ باللہ ! اگر عرش سے مراد ایک تخت لیا جاوے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے۔تو پھر ان آیات کا کیا ترجمہ کیا جاوے گا جہاں لکھا ہے کہ خدا ہر ایک چیز پر محیط ہے اور جہاں تین ہیں وہاں چوتھا ان کا خدا اور جہاں چار ہیں وہاں پانچواں ان کا خدا۔اور پھر لکھا ہے : وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ٢٦/١٦ اور وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنتُم ۲۷/۱۷ غرض اس بات کو اچھی طرح سے یاد رکھنا چاہیے کہ کلام الہی میں استعارات بہت پائے جاتے ہیں چنانچہ ایک جگہ دل کو بھی عرش کہا گیا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی تجلی بھی دل پر ہوتی ہے اور ایسا ہی عرش اس وراء الوراء مقام کو کہتے ہیں جہاں مخلوق کا نقطہ ختم ہو جاتا ہے۔اہل علم اس بات کو جانتے ہیں کہ ایک تو تشبیہ ہوتی ہے اور ایک تنزیہ ہوتی ہے مثلاً یہ بات کہ جہاں کہیں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور جہاں پانچ ہوں وہاں چھٹا ان کا خدا ہوتا ہے۔یہ ایک قسم کی تشبہ ہے جس سے دھوکا لگتا ہے کہ کیا روووو