تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 204

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۴ سورة الاعراف کا مجموعہ ہے جس سے اب ہر یک محقق نفرت کرتا جاتا ہے۔( نور القرآن نمبر ۲، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۲۸) يبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ يَقُضُونَ عَلَيْكُمُ ايْتِي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔وَلَاهُمْ متقی بننے کے واسطے یہ ضروی ہے کہ بعد اس کے کہ موٹی باتوں جیسے زنا، چوری، تلف حقوق ، ریا، عجب، حقارت ، بخل کے ترک میں پکا ہو تو اخلاق رذیلہ سے پر ہیز کر کے ان کے بالمقابل اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے، لوگوں سے مروت ، خوش خلقی ، ہمدردی سے پیش آئے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا وفا اور صدق دکھلاوے۔خدمات کے مقام محمود تلاش کرے۔ان باتوں سے انسان متقی کہلاتا ہے اور جولوگ ان باتوں کے جامع ہوتے ہیں وہی اصل متقی ہوتے ہیں ( یعنی اگر ایک ایک خلق فردا فردا کسی میں ہو تو اسے متقی نہ کہیں گے جب تک بحیثیت مجموعی اخلاق فاضلہ اس میں نہ ہوں ) اور ایسے ہی شخصوں کے لیے لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ہے اور اس کے بعد ان کو کیا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ایسوں کا متولی ہو جاتا ہے جیسے کہ وہ فرماتا ہے وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّلِحِينَ (الاعراف: ۱۹۷) حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالی ان کے ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ پکڑتے ہیں ان کی آنکھ ہو جاتا ہے جس سے وہ دیکھتے ہیں ان کے کان ہو جاتا ہے جن سے وہ سنتے ہیں ان کے پاؤں ہو جاتا ہے جن سے وہ چلتے ہیں اور ایک اور حدیث میں ہے کہ جو میرے ولی کی دشمنی کرتا ہے میں اس سے کہتا ہوں کہ میرے مقابلہ کے لیے تیار رہو ایک جگہ فرمایا ہے کہ جب کوئی خدا کے ولی پر حملہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس پر ایسے جھپٹ کر آتا ہے جیسے ایک شیرنی سے کوئی بچہ اس کا چھینے تو وہ غضب سے (البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخه ۱۳ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۸) جھپٹتی ہے۔فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِأَيْتِهِ أُولَبِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُمْ لا مِنَ الكِتب حَتَّى إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَوْنَهُمْ قَالُوا أَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا وَ شَهِدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَفِرِينَ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افترا کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے جیسا کہ فرماتا ہے کہ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا اَوْ كَذَبَ بايته (الانعام : ۲۲) یعنی بڑے کا فرد وہی ہیں ایک خدا