تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 203

سورة الاعراف تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پڑتا ہے۔جس شخص کو کوئی غم پہنچے آخر وہ چشم پر آب ہو جاتا ہے اور جس کو خوشی ہوآخر وہ تقیسم کرتا ہے۔جس قدر ہمارا کھانا، پینا، سونا، جاگنا، حرکت کرنا، آرام کرنا، غسل کرنا وغیر ہ افعال طبعیہ ہیں یہ تمام افعال ضروری ہماری روحانی حالت پر اثر کرتے ہیں۔ہماری جسمانی بناوٹ کا ہماری انسانیت سے بڑا تعلق ہے۔دماغ کے ایک مقام پر چوٹ لگنے سے یکلخت حافظہ جاتا رہتا ہے اور دوسرے مقام پر چوٹ لگنے سے ہوش و حواس رخصت ہوتے ہیں۔وباء کی ایک زہریلی ہوا کس قدر جلدی سے جسم میں اثر کر کے پھر دل میں اثر کرتی ہے۔اور دیکھتے دیکھتے وہ اندرونی سلسلہ جس کے ساتھ تمام نظام اخلاق کا ہے درہم برہم ہونے لگتا ہے۔یہاں تک کہ انسان دیوانہ سا ہو کر چند منٹ میں گذر جاتا ہے۔غرض جسمانی صدمات بھی عجیب نظارہ دکھاتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ روح اور جسم کا ایک ایسا تعلق ہے کہ اس راز کو کھولنا انسان کا کام نہیں۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۱۹ تا ۳۲۱) مومنوں کو كُلُوا وَاشْرَبُوا کا حکم دیا۔۔۔۔خلوا ایک امر ہے جب مومن اس کو امر سمجھ کر بجالا وے تو اس کا ثواب ہوگا۔الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۹) گوشت دال وغیرہ سب چیزیں جو پاک ہوں بیشک کھاؤ۔مگر ایک طرف کی کثرت مت کرو اور اسراف اور زیادہ خوری سے اپنے تئیں بچاؤ۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۶، ۳۳۷) یہ خدا تعالیٰ کا ان ( عرب کے لوگوں۔ناقل ) پر اور تمام دنیا پر احسان تھا کہ حفظان صحت کے قواعد مقرر فرمائے یہاں تک کہ یہ بھی فرما دیا کہ: كُلُوا وَاشْرَبُوا وَ لَا تُسْرِفُوا یعنی بے شک کھاؤ پیو مگر کھانے پینے میں بے جا طور پر کوئی زیادت کیفیت یا کمیت کی مت کرو۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۳۲) قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوا بِاللهِ مَا لَمْ يُنَزِّلُ بِهِ سُلْطَنَا وَ اَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تعلمون خدا نے ظاہری اور اندرونی گناہ دونوں حرام کر دیئے۔اب میں دھوئی سے کہتا ہوں کہ یہ عمدہ تعلیم بھی انجیل میں موجود نہیں کہ تمام عضووں کے گناہوں کا ذکر کیا ہو اور عزیمت اور خطرات میں فرق کیا ہو اور ممکن نہ تھا کہ انجیل میں یتعلیم ہوسکتی کیونکہ یتعلیم نہایت لطیف اور حکیمانہ اصولوں پر مبنی ہے اور انجیل تو ایک موٹے خیالات