تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 195

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۵ سورة الاعراف كَمَا خَصَّصَ مَوْتَهُمْ بِالثّرى اتترُكُونَ مخصوص فرمایا ہے جس طرح ان کی موت کو مٹی سے خاص كَلَامَ اللهِ وَ شَهَادَةَ نَبِيْهِ وَ تَتَّبِعُونَ کر دیا۔اے لوگو کیا تم اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کے نبی أَقْوَالًا آخَرَ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلًا - آیها کی شہادت کو چھوڑ کر دوسری باتوں کی اتباع کرتے ہو۔النَّاسِ قَدْ اَعْتَرَنِي اللهُ عَلى هذا الشر و ظالموں کا بدلہ نہایت ہی برا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اس عَلَّمَنِى مَا لَمْ تَعْلَمُوا وَ اَرْسَلَنِي إِلَيْكُمْ راز سے آگاہ فرمایا ہے اور مجھے وہ کچھ سکھایا ہے جس کا تم حَكَمًا عَدَلًا۔لا كُشِفَ عَلَيْكُمْ مَا كَانَ کو علم نہیں اور مجھے تمہاری طرف حکم و عدل بنا کر بھیجا ہے عَلَيْكُمْ مُسْتَبْرًا فَلا تُمَارُوا وَلَا تاکہ تم پر وہ باتیں کھولوں جو پہلے تم پر پوشیدہ تھیں۔پس شک نہ کرو اور نہ جھگڑا کرو۔(ترجمه از مرتب) تُجَادِلُوا - آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۳۳، ۴۳۴) زمین پر ہی تم زندگی بسر کرو گے۔اب دیکھوا اگر کوئی آسمان پر جا کر بھی کچھ حصہ زندگی کا بسر کر سکتا ہے تو اس سے اس آیت کی تکذیب لازم آتی ہے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۹۱٬۹۰) اگر مان لیا جاوے کہ حضرت مسیح زندہ جسم عصری آسمان پر تشریف لے گئے۔تو پھر آیت : فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي (المائدة : ۱۱۸) کیوں کر صحیح ٹھہر سکتی ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ حضرت مسیح کی وفات کے بعد عیسائی بگڑ گئے۔جب تک کہ وہ زندہ تھے عیسائی نہیں بگڑے اور پھر اس آیت کے کیا معنی ہو سکتے ہیں کہ فِيهَا تَحْيَونَ وَفِيهَا توتون کہ زمین پر ہی تم زندگی بسر کرو گے اور زمین پر ہی مرو گے کیا وہ شخص جو اٹھارہ سو برس سے آسمان پر بقول مخالفین زندگی بسر کر رہا ہے وہ انسانوں کی قسم میں سے نہیں ہے اگر مسیح انسان ہے تو نعوذ باللہ مسیح کے اس مدت دراز تک آسمان پر ٹھہرنے سے یہ آیت جھوٹی ٹھہرتی ہے اور اگر ہمارے مخالفوں کے نزدیک انسان نہیں ہے بلکہ خدا ہے تو ایسے عقیدہ سے وہ خود مسلمان نہیں ٹھہر سکتے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۱۰،۳۰۹) بعض نادان کہتے ہیں کہ یہ بھی تو عقیدہ اہل اسلام کا ہے کہ الیاس اور خضر زمین پر زندہ موجود ہیں اور ادریس آسمان پر مگر ان کو معلوم نہیں کہ علماء متقین ان کو زندہ نہیں سمجھتے کیونکہ بخاری اور مسلم کی ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ آج سے ایک سو برس کے گزرنے پر زمین پر کوئی زندہ نہیں رہے گا۔پس جو شخص خضر اور الیاس کو زندہ جانتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکذب ہے اور اور بیس کو اگر آسمان پر زندہ مانیں تو پھر ماننا پڑے گا