تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 194

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۴ سورة الاعراف آسمان پر رہیں ایسی صورت میں تو قرآن شریف کا ابطلال لازم آتا ہے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۹۳، ۳۹۴) قرآن شریف میں کئی جگہ صاف فرما دیا ہے کہ کوئی شخص مع جسم عصری آسمان پر نہیں جائے گا بلکہ تمام زندگی زمین پر بسر کریں گے یہ خدا کا وعدہ ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے : فِيهَا تَحْيَونَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ یعنی زمین پر ہی تم زندہ رہو گے اور زمین پر ہی تم مرو گے اور زمین میں سے ہی تم نکالے جاؤ گے۔پس اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ انسان کا مع جسم عنصری آسمان پر جانا اس وعدہ کے برخلاف ہے اور خدا پر تخلف وعدہ جائز نہیں اور اس وعدہ میں کوئی استثنا نہیں۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۲۸) اللہ جل شانہ کا قرآن شریف میں فرمانا: فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُون جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کرہ زمین کے سوا دوسری جگہ نہ زندگی بسر کر سکتا ہے اور نہ مرسکتا ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کا نام مسیح یعنی نبی سیاح ہونا بھی ان کی موت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ سیاحت زمین کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ صلیب سے نجات پا کر زمین پر ہی رہے ہوں اور نہ بجز اس زمانہ کے جو صلیب سے نجات پاکر ملکوں کا سیر کیا ہو اور کوئی زمانہ سیاحت ثابت نہیں ہوسکتا۔صلیب کے زمانہ تک نبوت کا زمانہ صرف ساڑھے تین برس تھے یہ زمانہ تبلیغ کے لیے بھی تھوڑا تھا چہ جائیکہ اس میں تمام ملک کی سیاحت کرتے۔ایسا ہی مرہم عیسی جو قریباً طب کی ہزار کتاب میں لکھی ہے ثابت کرتی ہے کہ صلیب کے واقعہ کے وقت حضرت عیسی آسمان پر نہیں اُٹھائے گئے بلکہ اپنے زخموں کا اس مرہم کے ساتھ علاج کراتے رہے اس کا نتیجہ بھی یہی نکلا کہ زمین پر ہی رہے اور زمین پر ہی فوت ہوئے۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۷۳) در حقیقت حضرت مسیح ابن مریم علیه السلام بر طبق آیت : فِيهَا تَحْيَونَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ زمین پر ہی اپنی جسمانی زندگی کے دن بسر کر کے فوت ہو چکے ہیں اور قرآن کریم کی سولہ آئینوں اور بہت سی حدیثوں بخاری اور مسلم اور دیگر صحاح سے ثابت ہے کہ فوت شدہ لوگ پھر آباد ہونے اور بسنے کے لیے دنیا میں بھیجے نہیں جاتے اور نہ حقیقی اور واقعی طور پر دو موتیں کسی پر واقع ہوتی ہیں اور نہ قرآن کریم میں واپس آنے والوں کے لیے کوئی قانون وراثت موجود ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۰۲) وو ،، وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: " فِيهَا تَحيون“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : فِيهَا تَحْيَونَ ( کہ تم اسی زمین میں فَخَصَّصَ حَيَاةَ النَّاسِ بِالْاَرْضِ زندہ رہو گے ) پس اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی زندگی کو زمین سے