تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 186

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۶ سورة الانعام سکتا۔ایسا ہی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے کسی نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے ماتم کرنے سے مردہ کو تکلیف ہوتی ہے تو انہوں نے یہی کہا کہ قرآن میں تو آیا ہے: لا تزرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى - پس قرآن پر حدیث کو قاضی۔۔۔۔بنانے میں اہل حدیث نے سخت غلطی کھائی۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۵) میں یہ تعلیم کبھی دینا نہیں چاہتا اور نہ اسلام نے دی کہ تم اپنے گناہوں کی گٹھڑی کسی دوسرے کی گردن پر لاد دو اور خود اباحت کی زندگی بسر کرنے لگو۔قرآن شریف نے صاف فیصلہ کر دیا ہے : لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ اخری۔ایک دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور نہ دنیا میں اس کی کوئی نظیر خدا تعالیٰ کے عام قانون قدرت میں ملتی ہے کبھی نہیں دیکھا جاتا کہ زید مثلاً سنکھیا کھا لیوے اور اسی سنکھیا کا اثر بکر پر ہو جاوے اور وہ مر جاوے یا ایک مریض ہو اور وہ دوسرے آدمی کے دوا کھا لینے سے اچھا ہو جاوے بلکہ ہر ایک بجائے خود متاثر ہو گا پھر یہ کیوں کر ممکن ہے کہ ایک شخص ساری عمر گناہ کرتا رہے اور دلیری کے ساتھ خدا تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرتار ہے اور لکھ دے کہ میرے گناہوں کا بوجھ دوسرے شخص کی گردن پر ہے، جو شخص ایسی امید کرتا ہے وہ دماغ بیده پخت و خیال باطل بست کا مصداق ہے۔پس اسلام کسی سہارے پر رکھنا نہیں چاہتا کیونکہ سہارے پر رکھنے سے ابطال اعمال لازم آ جاتا ہے لیکن جب انسان سہارے کے بغیر زندگی بسر کرتا ہے اور اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے اس وقت اس کو اعمال کی ضرورت پڑتی ہے اور کچھ کرنا پڑتا ہے اس لیے قرآن شریف نے فرمایا ہے : قد افلح من ذكرها فلاح وہی پاتا ہے جو اپنا تزکیہ کرتا ہے۔خود اگر انسان ہاتھ پاؤں نہ ہلائے تو بات نہیں بنتی۔الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۲) یہ کہنا کہ انسانی رنج ومن حوا کے سیب کھانے کی وجہ سے ہیں اسلام کا یہ عقیدہ نہیں۔ہمیں تو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ: لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى۔زید کے بدلے بکر کو سزا نہیں مل سکتی اور نہ ہی اس سے کچھ فائدہ متصور ہے۔حوا کی سیب خوری ان مشکلات اور رنج و سزا کا باعث نہیں ہے بلکہ ان کے وجوہات قرآن نے کچھ اور ہی بیان فرمائے ہیں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۶ مورخه ۲/جون ۱۹۰۸ صفحه ۷)