تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 179
۱۷۹ سورۃ الانعام تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام عظمت کا اپنے نفس کو شریک ٹھہراتا ہے اور کبھی مخلوق اور کبھی اسباب کو بلکہ سچا پرستار وہ ہے جو خدا کی تمام عظمتیں اور تمام بزرگیاں اور تمام تصرف خدا کو ہی دیتا ہے نہ کسی اور کو۔اور جب اس مرتبہ توحید پر انسان کی پرستش پہنچ جائے تب اس وقت وہ حقیقی طور پر خدا کا پرستار کہلاسکتا ہے اور ایسا انسان جیسا کہ زبان سے کہتا ہے کہ خدا واحد لاشریک ہے ایسا ہی وہ اپنے فعل سے یعنی اپنی عبادت سے بھی خدا کی توحید پر گواہی دیتا ہے پس اسی مرتبہ کاملہ کی طرف اشارہ ہے جو آیت مذکورہ بالا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا گیا کہ تو لوگوں کو کہہ دے کہ میری تمام عبادتیں خدا کے لئے ہیں یعنی نفس کو اور مخلوق کو اور اسباب کو میری عبادت میں سے کوئی حصہ نہیں۔اور پھر بعد اس کے فرمایا کہ میری قربانی بھی خاص خدا کے لئے ہے اور میرا جینا بھی خدا کے لئے اور میرا مرنا بھی خدا کے لئے۔یاد رہے کہ نیسیگه لغت عرب میں قربانی کو کہتے ہیں اور لفظ نُسُك جو آیت میں موجود ہے اُس کی جمع ہے اور نیز دوسرے معنی اس کے عبادت کے بھی ہیں پس اس جگہ ایسا لفظ استعمال کیا گیا۔جس کے معنے عبادت اور قربانی دونوں پر اطلاق پاتے ہیں۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کامل عبادت جس میں نفس اور مخلوق اور اسباب شریک نہیں ہیں در حقیقت ایک قربانی ہے اور کامل قربانی در حقیقت کامل عبادت ہے اور پھر بعد اس کے جو فرمایا کہ میرا جینا بھی خدا کے لئے ہے اور میرا مرنا بھی خدا کے لئے یہ آخری فقرہ قربانی کے لفظ کی تشریح ہے تا کوئی اس وہم میں نہ پڑے کہ قربانی سے مراد بکرے کی قربانی یا گائے کی قربانی یا اونٹ کی قربانی ہے اور تا اس لفظ سے کہ میرا جینا اور میرا مرنا خاص خدا کے لئے ہے صاف طور پر سمجھا جائے کہ اس قربانی سے مراد روح کی قربانی ہے اور قربانی کا لفظ قرب سے لیا گیا ہے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کا قرب تب حاصل ہوتا ہے کہ جب تمام نفسانی قومی اور نفسانی جنبشوں پر موت آجائے غرض یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب تام پر ایک بڑی دلیل ہے اور یہ آیت بتلا رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر خدا میں گم اور محو ہو گئے تھے کہ آپ کی زندگی کے تمام انفاس اور آپ کی موت محض خدا کے لئے ہوگئی تھی اور آپ کے وجود میں نفس اور مخلوق اور اسباب کا کچھ حصہ باقی نہیں رہا تھا۔اور آپ کی روح خدا کے آستانہ پر ایسے اخلاص سے گری تھی کہ اس میں غیر کی ایک ذرہ آمیزش نہیں رہی تھی پس اس طرح پر آپ نے اس شرط کے ایک حصہ کو پورا کیا جو شفیع کے لئے ایک لازمی شرط ہے اور آخری فقرہ آیت مذکورہ بالا کا یہ ہے کہ میرا جینا اور مرنا اس خدا کے لئے ہے جو تمام جہان کی پرورش میں لگا