تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 178

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۸ سورۃ الانعام انقلاب آیا کہ سب کے سب ایک ہی دفعہ دستبردار ہو گئے اور فیصلہ کیا کہ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ہمارا سب کچھ اللہ ہی کے لیے ہے۔اگر اس قسم کے لوگ ہم میں ہو جاویں تو کون سی آسمانی برکت اس سے بزرگ تر ہے۔احکام جلد نمبر ۲۴ مورخه ۳۰ جون ۱۹۰۳ صفحه ۱۰) اللہ تعالی پر ایمان لاؤ اور اسی کو یگانہ و یکتا معبود سمجھو۔جب تک انسان ایمان نہیں لاتا کچھ نہیں اور ایسا ہی نماز وروزہ میں اگر دنیا کو کوئی حصہ دیتا ہے تو وہ نماز وروزہ اسے منزل مقصود تک نہیں لے جاسکتا بلکہ محض خدا کے لیے ہو جاوے۔اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کا سچا مصداق ہو تب مسلمان کہلائے گا۔ابراہیم کی طرح صادق اور وفادار ہونا چاہیے جس طرح پر وہ اپنے بیٹے کو ذبح کرنے پر آمادہ ہو گیا۔اسی طرح انسان ساری دنیا کی خواہشوں اور آرزوؤں کو جب تک قربان نہیں کر دیتا کچھ نہیں بنتا۔میں سچ کہتا ہوں کہ جب انسان اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو ایک جذبہ پیدا ہو جاوے اس وقت اللہ تعالیٰ خود اس کا متکفل اور کارساز ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ پر کبھی بدلنی نہیں کرنی چاہیے اگر نقص اور خرابی ہوگی تو ہم میں ہوگی۔پس یا در رکھو کہ جب تک انسان خدا کا نہ ہو جاوے بات نہیں بنتی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو جاتا ہے اس میں شتاب کاری نہیں رہتی۔مشکل یہی ہے کہ لوگ جلد گھبرا جاتے ہیں اور پھر شکوہ کرنے لگتے ہیں۔الحام جلد ۹ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۵ صفحه ۱۰) الہی قرب کی نسبت یوں فرمایا : قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ يعنى لوگوں کو اطلاع دے دے کہ میری یہ حالت ہے کہ میں اپنے وجود سے بالکل کھویا گیا ہوں میری تمام عبادتیں خدا کے لئے ہوگئی ہیں۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر یک انسان جب تک وہ کامل نہیں خدا کے لئے خالص طور پر عبادت نہیں کر سکتا بلکہ کچھ عبادت اس کی خدا کے لئے ہوتی ہے اور کچھ اپنے نفس کے لئے کیونکہ وہ اپنے نفس کی عظمت اور بزرگی چاہتا ہے جیسا کہ خدا کی عظمت اور بزرگی کرنی چاہئے اور یہی عبادت کی حقیقت ہے اور ایسا ہی ایک حصہ اس کی عبادت کا مخلوق کے لئے ہوتا ہے کیونکہ جس عظمت اور بزرگی اور قدرت اور تصرف کو خدا سے مخصوص کرنا چاہئے اس عظمت اور قدرت کا حصہ مخلوق کو بھی دیتا ہے۔اس لئے جیسا کہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہے نفس اور مخلوق کی بھی پرستش کرتا ہے بلکہ عام طور پر جمیع اسباب سفلیہ کو اپنی پرستش سے حصہ دیتا ہے کیونکہ خدا کے ارادہ اور تقدیر کے مقابل پر ان اسباب کو بھی کارخانه محو اور اثبات میں دخیل سمجھتا ہے۔پس ایسا انسان خدا تعالیٰ کا سچا پرستار نہیں ٹھہر سکتا جو کبھی خدا کی