تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 166
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام و ۱۶۶ سورة الانعام اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَه سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِنْدَ اللهِ وَعَذَابٌ شَدِيدُ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ ) (۱۲۵) صاحب الہام ہونے میں استعداد اور قابلیت شرط ہے یہ بات نہیں ہے کہ ہر کس و ناکس خدائے تعالیٰ کا پیغمبر بن جائے اور ہر یک پر حقانی وحی نازل ہو جایا کرے، اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں آپ ہی اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے : وَ إِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةً قَالُوا لَن تُؤْمِن حَتى تولى مِثْلَ ما أوتي رُسُلُ اللهِ اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسالته، یعنی جس وقت قرآن کی حقیت ظاہر کرنے کے لئے کوئی نشانی کفار کو دکھلائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ جب تک خود ہم پر ہی کتاب الہی نازل نہ ہو تب تک ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔خدا خوب جانتا ہے کہ کس جگہ اور کس محل پر رسالت کو رکھنا چاہیئے۔یعنی قابل اور نا قابل اسے معلوم ہے اور اسی پر فیضان الہام کرتا ہے کہ جو جو ہر قابل ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حکیم مطلق نے افراد بشریہ کو بوجہ مصالحہ مختلفہ مختلف طوروں پر پیدا کیا ہے اور تمام بنی آدم کا سلسلہ فطرت ایک ایسے خط سے مشابہ رکھا ہے جس کی ایک طرف نہایت ارتفاع پر واقعہ ہو اور دوسری طرف نہایت انحضاض پر۔طرف ارتفاع میں وہ نفوس صافیہ ہیں جن کی استعداد میں حسب مراتب متفاوتہ کامل درجہ پر ہیں اور طرف انحصاض میں وہ نفوس ہیں جن کو اس سلسلہ میں ایسی پست جگہ ملی ہے کہ حیوانات لا یعقل کے قریب قریب پہنچ گئے ہیں اور درمیان میں وہ نفوس ہیں جو عقل وغیرہ میں درمیان کے درجہ میں ہیں اور اس کے اثبات کے لئے مشاہدہ افراد مختلفة الاستعداد کافی دلیل ہے۔کیونکہ کوئی عاقل اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ افراد بشری عقل کے رو سے تقویٰ اور خدا ترسی کے لحاظ سے محبت الہیہ کی وجہ سے مختلف مدارج پر پڑی ہوئی ہیں اور جس طرح قدرتی واقعات سے کوئی خوبصورت پیدا ہوتا ہے، کوئی بدصورت کوئی سوجا کھا، کوئی اندھا، کوئی ضعیف البصر ، کوئی قومی البصر ، کوئی نام الخلقت، کوئی ناقص الخلقت۔اسی طرح قومی دماغیہ اور انوار قلبیہ کا تفاوت مراتب بھی مشہود اور محسوس ہے۔ہاں ! یہ سچی بات ہے کہ ہر یک فرد بشر بشرطیکہ نرا مخبوط الحواس اور مسلوب العقل نہ ہو عقل میں تقویٰ میں محبت الہیہ میں ترقی کر سکتا ہے۔مگر اس بات کو بخوبی یا درکھنا چاہیئے کہ کوئی نفس اپنے دائرہ قابلیت سے زیادہ ہر گز ترقی نہیں کر سکتا۔ایک شخص جو اپنے قوی دماغیہ میں من حیث الفطرت نہایت کمزور ہے۔مثلاً فرض کرو کہ ایک ایسا ادھورا آدمی ہے جس کو ہمارے ملک کے