تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 165
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۵ سورة الانعام وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۖ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمُ اللَّا يَخْرُصُونَ۔قرآن کریم کی محکمات اور بینات علم ہے اور مخالف قرآن کے جو کچھ ہے وہ ظن ہے اور جو شخص علم ہوتے ظن کا اتباع کرے وہ اس آیت کے نیچے داخل ہے۔(الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۹۴) وَمَا لَكُم اَلَا تَأْكُلُوا مِنَا ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ b b الا مَا اضْرِرْتُمْ إِلَيْهِ وَ إِنَّ كَثِيرًا لَّيُضِلُّونَ بِأَهوَ بِهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ (اس سوال کے جواب میں کہ کیا کسی غریب سید کو ز کوۃ دی جا سکتی ہے فرمایا :) اصل میں منع ہے۔اگر اضطراری حالت ہو ، فاقہ پر فاقہ ہو تو ایسی مجبوری کی حالت میں جائز ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إلَّا مَا اضْطُرِ رُ تُم اِلَيْهِ - حدیث سے فتویٰ تو یہ ہے کہ نہ دینی چاہیے اگر سید کو اور قسم کا رزق آتا ہو تو اسے زکوۃ لینے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہاں ! اگر اضطراری حالت ہو تو اور بات ہے۔الحکم جلدا انمبر ۳۰ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۰۷ صفحه ۵) اَوَ مَنْ كَانَ مَيْنَا فَأَحْيَيْنَهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلمتِ لَيْسَ بِخَارِجِ مِنْهَا كَذلِكَ زُيِّنَ لِلْكَفِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ کیا وہ شخص جو مردہ تھا اور ہم نے اس کو زندہ کیا اور ہم نے اس کو ایک نور عطا کیا جس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے یعنی اس نور کی برکات لوگوں کو معلوم ہوتی ہیں کیا ایسا آدمی اس آدمی کی مانند ہو سکتا ہے جو سراسر تاریکی میں اسیر ہے اور اس سے نکل نہیں سکتا نور اور حیات سے مراد روح القدس ہے کیونکہ اس سے ظلمت دور ہوتی ہے اور وہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اس لیے اس کا نام روح القدس ہے یعنی پاکی کی روح جس کے داخل ہونے سے ایک پاک زندگی حاصل ہوتی ہے۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۹۹) وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَنْ نُؤْ مِن حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّهِ اللَّهُ