تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 145

۱۴۵ سورۃ الانعام تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام منہ سے کہہ سکتا ہے دل سے بھی ادھر کی طرف متوجہ ہو تو لا ریب وہ مسلم ہے وہ مومن اور حنیف ہے لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا غیر اللہ سے سوال کرتا ہے اور ادھر بھی جھکتا ہے اور روح اور دل کی طاقتیں (اس درخت کی طرح جس کی شاخیں ابتداء ایک طرف کر دی جائیں اور پرورش پالیس) ادھر ہی جھکتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی طرف سے ایک سختی اور تشدد اس کے دل میں پیدا ہو کر اسے منجمد اور پتھر بنا دیتا ہے۔جیسے وہ شاخیں پھر دوسری طرف مڑ نہیں سکتیں۔اسی طرح پر وہ دل اور روح دن بدن خدا تعالی سے دور ہوتی جاتی ہے پس یہ بڑی خطرناک اور دل کو کپکپا دینے والی بات ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے سے سوال کرے۔اس لیے نماز کا التزام اور پابندی بڑی ضروری چیز ہے تا کہ اولاً وہ ایک عادتِ راسخہ کی طرح قائم ہو اور رجوع الی اللہ کا خیال ہو۔پھر رفتہ رفتہ وہ وقت خود آ جاتا ہے کہ انقطاع علی کی حالت میں انسان ایک نور اور ایک لذت کا وارث ہو جاتا ہے۔ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ا صفحہ ۶، ۷ جنوری ۱۹۰۴ء) جب تک انسان پورے طور پر حنیف ہو کر اللہ تعالیٰ ہی سے سوال نہ کرے اور اسی سے نہ مانگے سچ سمجھو کہ حقیقی طور پر وہ سچا مسلمان اور سچا مومن کہلانے کا مستحق نہیں۔اسلام کی حقیقت ہی یہ ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی سب کی سب اللہ تعالی ہی کے آستانہ پر گری ہوئی ہوں جس طرح پر ایک بڑا انجمن بہت سی کلوں کو چلاتا ہے پس اسی طور پر جب تک انسان اپنے ہر کام اور ہر حرکت وسکون کو اسی انجن کی طاقت عظمی کے ماتحت نہ کر لیوے وہ کیوں کر اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا قائل ہوسکتا ہے اور اپنے آپ کو انی وَجَهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ کہتے وقت واقعی حنیف کہہ سکتا ہے؟ جیسے منہ سے کہتا ہے ویسے ہی ادھر کی (طرف) متوجہ ہوتو لاریب وہ مسلم ہے وہ مومن اور حنیف ہے لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا غیر اللہ سے سوال کرتا ہے اور ادھر بھی جھکتا ہے وہ یادر کھے کہ بڑا ہی بد قسمت اور محروم ہے کہ اس پر وہ وقت آجانے والا ہے کہ وہ زبانی اور نمائشی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھک سکے۔احکام جلد ۳ نمبر ۱۳ مورخه ۱۷۱۲ پریل ۱۸۹۹ صفحه ۶) برکات اور فیوض الہی کے حصول کے واسطے دل کی صفائی کی بھی بہت بڑی ضرورت ہے جب تک دل صاف نہ ہو کچھ نہیں۔چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ دل پر نظر ڈالے تو اس کے کسی حصہ یا کسی گوشہ میں کوئی شعبہ نفاق کا نہ ہو جب یہ حالت ہو تو پھر الہی نظر کے ساتھ تجلیات آتی ہیں اور معاملہ صاف ہو جاتا ہے۔اس کے لیے ایسا وفادار اور صادق ہونا چاہیے جیسے ابراہیم علیہ السلام نے اپنا صدق دکھایا یا جس طرح پر