تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 144

۱۴۴ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ الانعام اقسام بیان کئے ہیں جیسے: قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَ يُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأسَ بَعْضٍ - جنگ لڑائی وغیرہ کو بھی عذاب قرار دیا ہے۔عذاب بہت اقسام کے ہوتے ہیں۔کیا خدا کے پاس عذاب کی ایک ہی قسم ہے اور خدا کی عادت ہے کہ ہر نشان میں ایک پہلو اخفا کا رکھتا ہے ورنہ وہ چاہے تو چن چن کر بڑے بڑے بدمعاش ہلاک کر دے۔سب لوگ ایک ہی دن میں سیدھے ہو جاویں۔(الہدر، جلد ۲ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۲۳ تا ۳۰ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۲، ۳) قُلْ اَند عُوا مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعْنَا وَلَا يَضُرُنَا وَ نُرَدُّ عَلَى أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ ص هَدْنَا اللهُ كَالَّذِي اسْتَهُوَتْهُ الشَّيطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَةَ أَصْحَبُ يَدْعُونَةٌ إلَى الْهُدَى انْتِنَا قُلْ إِنَّ هُدَى اللهِ هُوَ الْهُدى وَأُمِرْنَا لِمُسْلِمَ لِرَبِّ العلمين قُلْ اِنَّ هُدَى اللهِ هُوَ الْهُدی۔۔۔۔۔ان کو کہہ دے کہ تمہارے خیالات کیا چیز ہیں؟ ہدایت وہی ہے جو خدا تعالی براہ راست آپ دیتا ہے ورنہ انسان اپنے غلط اجتہادات سے کتاب اللہ کے معنی بگاڑ دیتا ہے اور کچھ کا کچھ سمجھ لیتا ہے وہ خدا ہی ہے جو غلطی نہیں کھاتا لہذا ہدایت اسی کی ہدایت ہے۔انسانوں کے اپنے خیالی معنے بھروسے کے لائق نہیں ہیں۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۸۸٬۸۷) اِنّى وَجَهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ جب تک انسان پورے طور پر حنیف ہو کر اللہ تعالیٰ ہی سے سوال نہ کرے اور اسی سے نہ مانگے سچ سمجھو کہ حقیقی طور پر وہ سچا مسلمان اور سچا مومن کہلانے کا مستحق نہیں۔اسلام کی حقیقت ہی یہ ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے آستانہ پر گری ہوئی ہوں۔جس طرح ایک بڑا انجن بہت سی کلوں کو چلاتا ہے پس اسی طور پر جب تک انسان اپنے ہر کام اور ہر حرکت و سکون تک کو اسی انجمن کی طاقت عظمی کے ماتحت نہ کر لیوے وہ کیوں کر اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا قائل ہو سکتا ہے؟ اور کیوں کر اپنے آپ کو اِنِّي وَجَهتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّبُوتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا۔کہتے وقت واقعی حنیف کہہ سکتا ہے؟ جیسے