تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 118

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۸ سورة المائدة آنجا در تفسیر این آیت بجز امانت یعنی میرانیدن میں بجز امانت یعنی مارنے کے دوسرے معنے نہیں معنی دیگر نخواهد یافت - آیا نمی بینی که در صحیح پائے گا۔کیا تو نہیں دیکھتا صحیح بخاری میں عبداللہ بن عباس بخاری از عبد الله بن عباس است مُتَوَفِّيكَ ، سے مروی ہے ”متوفيك : همتيك “ يعنى متوفيك هميتك يعنی معنی مُتَوَفِّيكَ این است که من ترا کے یہ معنے ہیں: میں تجھے مارنے والا ہوں اور ہم نے ہر میراننده ام۔و ماہر چند سیر کتب حدیث کردیم و چند که کتب حدیث کا سیر حاصل مطالعہ کیا ہے اور تمام تمام آثار و اقوال صحابه را دیدیم و خواندیم و روایات و اقوال صحابہ کو دیکھا اور خود ہم نے پڑھا ہے شنیدیم اما پیچ جانیا فیتم کہ در شرح ایس آیت بجز اور (لوگوں سے ) سنا بھی ہے لیکن کسی جگہ نہیں پایا کہ اس معنے امانت چیزے دیگر در حدیثے یا اثرے یا کی شرح میں سوائے امانت کے معنی کے کوئی دوسری چیز قولے آمده باشد و ما بدعوی میگوئیم که هر چه از کسی حدیث یا کسی روایت یا کسی قول میں آئی ہو اور ہم صحابہ ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم در معنی توئی در دعوی سے کہتے ہیں کہ جو کچھ صحابہ کرام اور رسول اللہ صلی آیت موصوفه ثابت شده است آں ہمیں معنی اللہ علیہ وسلم سے توفی کے معنی میں آیت مذکورہ میں میرانیدن است نه غیر آں۔نتواں گفت کہ ثابت ہے وہی مارنے کے معنے ہیں کوئی اور نہیں ، اور نہیں میرانیدن مسلم است لیکن آں موت ہنوز واقع کہا جا سکتا کہ مارنا مسلم ہے لیکن وہ موت ابھی واقع نہیں نشدہ۔بلکہ آئندہ واقع خواهد شد زیر آنکہ ہوئی بلکہ آئندہ واقع ہوگی اس لئے کہ حضرت عیسی علیہ - حضرت عیسی علیہ السلام در آیه فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي السلام فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِی والی آیت میں فرماتے ہیں کہ میر ماید که فتنه ضلالت نصاری بعد از موت من ضلالت نصاری کا فتنہ میری موت کے بعد وقوع میں آیا بوقوع آمده است نه قبل از موت من۔پس اگر ہے نہ کہ میری موت سے پہلے۔پس اگر چہ یہ فرض کریں فرض کنیم کہ وعدہ موت هنوز بظهور نیامده است که وعده موت ابھی ظہور میں نہیں آیا ہے اور عیسی علیہ و حضرت عیسی علیہ السلام تا این وقت زندہ السلام ابھی تک زندہ ہیں پس ہم پر یہ واجب ہے کہ ہم یہ است۔پس بر ما واجب مے شود کہ ایں ہم قبول بھی قبول کر لیں کہ نصاری ابھی تک صراط مستقیم پر ہیں اور کنیم که نصاری ہم تا هنوز بر صراط مستقیم بستند و ابھی تک گمراہ نہیں ہوئے ہیں کیونکہ مذکورہ آیت میں گمراه نشده اند زیرا نکه در آیت موصوفہ عیسائیوں کی گمراہی موت عیسی سے وابستہ ہے۔پس گمراہی عیسائیاں راہموت صحیح وابستہ کردہ جب تک عیسی علیہ السلام مردہ نہیں ہوں گے عیسائیوں کو