تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 117

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 112 سورة المائدة سکتا ہے؟ ان کو تو کہنا چاہیے تھا کہ میں دنیا میں جب دوبارہ گیا تو اس وقت صلیب پرستی کا زور تھا اور میری الوہیت اور اجنبیت پر بھی شور مچا ہوا تھا مگر میں نے جا کر صلیبوں کو توڑا اور خنزیروں کو قتل کیا اور تیری توحید کو پھیلایا۔نہ یہ جواب دیتے کہ جب تو نے مجھے وفات دے دی اس وقت تو خود نگران تھا۔کیا قیامت کے دن حضرت مسیح جھوٹ بولیں گے؟ الحکم جلدے نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۳ صفحه ۳) ہر عاقلے میداند که حیات عیسی علیہ السلام را ہر عقلمند جانتا ہے کہ حیات عیسی علیہ السلام کو ثابت کرنا ثابت کردن امریست محال و خیالیست باطل۔ایک محال اور باطل خیال ہے۔اس لئے کہ قرآن شریف چرا که قرآن شریف بکمال وضاحت ایں فیصلہ نے بڑی وضاحت سے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ میسی وفات کرده است که عیسی وفات یافت و مومنے را پاچکے ہیں اور ایسا مؤمن جو اپنے دل میں رب جلیل کے - که عظمت کلام رب جلیل در دل خود می دارد کلام کی عظمت رکھتا ہے اس کے لئے یہ آیت کافی ہے۔ایس آیت کافی است کہ اللہ جلشانہ می فرماید : اللہ جلشانہ فرماتا ہے: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ اَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ عَلَيْهِمُ اب اسے اس آیت کے سننے والے غور سے دیکھ اکنوں اے شنوندہ ایس آیت بغور بنگر آیا می کہ کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ اس آیت سے وفات کے علاوہ توانی که بجز وفات معنی دیگر ازیں آیت بر کوئی دیگر معنی نکال سکے۔یہ ہرگز ممکن نہیں بلکہ ہر منصف آری۔ہرگز ممکن نیست۔بلکہ ہر منصلے و محققے کہ اور محقق کہ جو آیت کریمہ پر غور کرے گا وہ (قرآن کے ) ہرمز بریں آیت کریمه خور خواهد کرد و در منطوق و منطوق و مفہوم میں غور کرے گا۔وہ ہدایت نظر کے ساتھ مفهوم آن تاملی خواهد نمود او از پنجابید است نظر عیسی علیہ السلام کی وفات ہی سمجھے گا اور قطعی ویقینی طور پر وفات عیسی علیہ السلام خوابد فهمید و اقطع و یقین پر ان کی وفات پر ہی ایمان لائے گا اور حضرت عیسی کی موت شاں ایمان خواهد آورد و بعد زمیں بصیرت وفات پر بصیرت حاصل ہو جانے کے بعد موت عیسی سے انکار موت را نه صرف ضلالت بلکہ الحاد و زندقہ انکار کو نہ صرف ضلالت بلکہ الحاد اور زند قیت شمار کرے گا۔خواہد شمرد۔ہاں ممکن است کہ کسے را بوجہ نادانی ممکن ہے کسی کو اپنی نادانی کے سبب لفظ توفی کے معنی میں خود در معنی لفظ تونی ترددے پیدا شود۔لیکن تر در پیدا ہو جائے لیکن جب حدیث کی طرف اور صحابہ کی۔تر اور چوں سوئے حدیث و آثار صحابہ رجوع خواہد روایات کی طرف رجوع کرے گا تو اس کا یہ سب تردد کرد آن همه تردد کا لعدم خواہد شد - چرا که او کالعدم ہو جائے گا۔اس لئے کہ وہ وہاں اس آیت کی تفسیر