تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 81
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ΔΙ سورة ال عمران گا۔لیکن اب تو بجز مجرد رَافِعُكَ کے جو مُتَوَفِّيكَ کے بعد ہے کوئی دوسرا لفظ رافِعُكَ کا تمام قرآن شریف میں نظر نہیں آتا جو ثُمَّ مُحنت کے بعد ہوا گر کسی جگہ ہے تو وہ دکھلا نا چاہیے۔میں بدعویٰ کہتا ہوں کہ اس ثبوت کے بعد کہ حضرت عیسیٰ فی الحقیقت فوت ہو گئے تھے یقینی طور پر یہی ماننا پڑے گا کہ جہاں جہاں رَافِعُكَ يا بَلْ دَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ (النساء :۱۵۹) ہے اس سے مراد ان کی روح کا اُٹھایا جانا ہے جو ہر یک مومن کے لئے ضروری ہے۔ضروری کو چھوڑ کر غیر ضروری کا خیال دل میں لانا سراسر جہل ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۳۵) قرائن قویہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ میچ جسم کے ساتھ آسمان پر ہر گز نہیں گیا اور نہ آسمان کا لفظ اس آیت میں موجود ہے بلکہ لفظ تو صرف یہ ہے يُعِيسَى إِلى مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى پھر دوسری جگہ ہے بَلْ زَفَعَهُ الله اليه (النساء :۱۵۹) جس کے یہ معنے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے مسیح کو موت دے کر پھر اپنی طرف اٹھا لیا جیسا کہ یہ عام محاورہ ہے کہ نیک بندوں کی نسبت جب وہ مر جاتے ہیں یہی کہا کرتے ہیں کہ فلاں بزرگ کو خدائے تعالیٰ نے اپنی طرف اُٹھا لیا ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۴۶ ۲۴۷) خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھائے جانے کے یہی معنے ہیں کہ فوت ہو جانا۔خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ ارجعي إلى ربّكِ ( الفجر : ٢٩) اور یہ کہنا کہ اِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ اِلی ایک ہی معنے رکھتا ہے۔سوا اس کے جس وضاحت اور تفصیل اور توضیح کے ساتھ قرآن شریف میں مسیح کے فوت ہو جانے کا ذکر ہے اس سے بڑھ کر متصورنہیں کیونکہ خداوند عز وجلت نے عام اور خاص دونوں طور پر مسیح کا فوت ہو جانا بیان فرمایا ہے۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۶۵،۲۶۴) یہ بات ظاہر ہے کہ اگر مسیح ابن مریم اس جماعت مرفوعہ سے الگ ہے جو دنیا سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو کر خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھائی گئی ہے تو ان میں جو عالم آخرت میں پہنچ گئے ہرگز شامل نہیں ہو سکتا بلکہ مرنے کے بعد پھر شامل ہوگا اور اگر یہ بات ہو کہ اُن میں جاملا اور بموجب آیت فَادْخُلى في عبدى ( الفجر : (۳۰ ان فوت شدہ بندوں میں داخل ہو گیا تو پھر انہیں میں سے شمار کیا جاوے گا۔اور معراج کی حدیث سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مسیح اُن فوت شدہ نبیوں میں جاملا اور بیٹی نبی کے پاس اس کو مقام ملا۔اس صورت میں ظاہر ہے کہ معنے اس آیت کے کہ: إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى ہے یہ ہوں گے کہ: ابی مُتوفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلى عِبَادِى الْمُتَوَفَّيْنَ الْمُقَرَّبِينَ وَمُلْحِقُكَ بِالصَّلِحِينَ