تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 80

سورة ال عمران تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام یہودیانہ تحریف کے پھر بھی کامیاب نہ ہو سکے۔کیونکہ اگر فرض کیا جائے کہ فقرہ إِنِّي رَافِعُكَ اِلَى فقرہ إِنِّي متوفيك پر مقدم سمجھنا چاہیے تو پھر بھی اس سے محرفین کا مطلب نہیں نکلتا۔کیونکہ اس صورت میں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اے عیسی ! میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور وفات دینے والا ہوں اور یہ معنے سراسر غلط ہیں کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت عیسی کی آسمان پر ہی وفات ہو وجہ یہ کہ جب رفع کے بعد وفات دینے کا ذکر ہے اور نزول کا درمیان کہیں ذکر نہیں۔اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آسمان پر ہی حضرت عیسی وفات پائیں گے۔ہاں ! اگر ایک تیسر افقرہ اپنی طرف سے گھڑا جائے اور ان دونوں فقروں کے بیچ میں رکھا جائے اور یوں کہا جائے يَا عِيسَى إِنِّي رَافِعُكَ وَمُنَزِّلُكَ وَمُتَوَفِّيكَ تو پھر معنے درست ہوجائیں گے۔مگر ان تمام تحریفات کے بعد فقرات مذکورہ بالا خدائے تعالیٰ کا کلام نہیں رہیں گے بلکہ باعث دخل انسان اور صریح تغییر وتبدیل و تحریف کے اسی محرف کا کلام متصورہوں گے۔جس نے بے حیائی اور شوخی کی راہ سے ایسی تحریف کی ہے۔اور کچھ شبہ نہیں کہ ایسی کارروائی سراسر الحاد اور صریح بے ایمانی میں داخل ہوگی۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۰۶ تا ۶۰۹ حاشیه ) 119 تفسیر معالم کے صفحہ ۱۶۲ میں زیر تفسیر آیت : يعيسى إلى مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى لکھا ہے کہ علی بن طلحہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ رائی میشک یعنی میں تجھ کو مارنے والا ہوں اس پر دوسرے اقوال اللہ تعالیٰ کے دلالت کرتے ہیں قُلْ يَتَوَفكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ (السجدة :١٢) - الَّذِينَ تَتَوَفهُمُ الْمَلبِكَةُ طَيْبِينَ (النحل : ٣٣) - الَّذِينَ تَتَوَفهُمُ الْمَلَيكَةُ ظَالِحِي أَنْفُسِيهِمُ (النحل : ٢٩) غرض حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اعتقاد یہی تھا کہ حضرت عیسی فوت ہو چکے ہیں اور ناظرین پر واضح ہوگا کہ حضرت ابن عباس قرآن کریم کے سمجھنے میں اول نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارے میں اُن کے حق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا بھی ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۲۵،۲۲۴) قرآن شریف میں اول سے آخر تک جس جس جگہ توفی کا لفظ آیا ہے اُن تمام مقامات میں توفی کے معنے موت ہی لئے گئے ہیں۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۲۴ حاشیه ) اگر حضرت عیسی حقیقت میں موت کے بعد پھر جسم کے ساتھ اُٹھائے گئے تھے تو قرآن شریف میں عبارت یوں چاہیے تھی : يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ ثُمَّ مُحْيِيكَ ثُمَّ رَافِعُكَ مَعَ جَسَدِكَ إِلَى السَّمَاءِ یعنی اے عیسی ! میں تجھے وفات دوں گا پھر زندہ کروں گا پھر تجھے تیرے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اُٹھالوں