تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 76

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة ال عمران جاتے ہیں کہ وہ ایسے شریر آدمی کو جو بد مکروں سے بے گناہوں کو دُکھ دیتا ہے اپنے نیک اور عدل کے مکر سے سزا دیتا ہے۔۔اب ہم عام فائدہ کے لئے کتاب لسان العرب سے جو ایک پرانی اور معتبر کتاب لغت کی ہے مکر کے معنے لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے الْمَكْرُ : اِحْتِيَالُ في خُفْيَةٍ۔وَإِنَّ الْكَيْدَ فِي الْحُرُوبِ حَلَال وَالْمَكْرُ في كُلّ حَلالٍ حَرَامٌ۔قَالَ اللهُ تَعَالَى وَمَكَرُوا مَكْرًا وَ مَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ( العمل : ۵ ) - قَالَ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالتَّأْوِيْلِ : الْمَكْرُ مِنَ اللهِ تَعَالَى جَزَاءُ سُمَّى بِاسْمِ مَكْرِ الْمَجَازِي - ترجمہ مکر اس حیلہ کو کہتے ہیں جو پوشیدہ رکھا جائے۔جنگوں میں اس قسم کے خیلے حلال ہیں۔اور ہر ایک حلال امر کو حیلہ کر کے ٹالنا یہ حرام ہے اور قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں نے اپنی دانست میں ایک بڑا مکر کیا اور ہم نے بھی مکر کیا اور وہ ہمارے مکر سے بے خبر تھے اور اہل علم کہتے ہیں کہ خدا کا مگر یہ ہے کہ مکار کو مکر کی سزا دینا۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳،صفحه ۲۰۱،۲۰۰) ہمارے مخالف ہر طرف سے کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے نابود کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں ہر قسم کی تدبیریں اور منصوبے کرتے ہیں مگر ان کو معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ پہلے ہی ہم کو تسلی دے چکا ہے : مَكَرُوا وَ مَكَرَ اللهُ وَالله خَيْرُ الْمُکرین ، خدا کے ساتھ لڑ کر کبھی کوئی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ان کا بھروسہ اپنی تدابیر اور جیل پر ہے اور ہمارا خدا پر۔(الحکم جلدے نمبر ۱۳ مورخہ ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۳) میں نے غور کیا ہے کہ مر کا لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح علیہ السلام کے لئے قرآن میں آیا ہے اور میرے لئے بھی یہی لفظ براہین میں آیا ہے گو یا مسیح علیہ السلام کے قتل کے لئے بھی ایک مخفی منصو بہ کیا گیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی کیا گیا تھا اور یہاں بھی منصوبے ہوئے اور اپنے طور پر آج کل بھی فرق نہیں کیا جاتا مگر خدا تعالیٰ کا مکر ان سب پر غالب آیا۔مگر مخفی اور لطیف تدبیر کو کہتے ہیں۔لیکھرام نے اپنے خطوط میں یہی لکھا تھا کہ خَيْرُ المکرین سے میرے لئے کوئی نشان طلب کرو۔جب خدا تعالیٰ بار یک اسباب سے مجرم کو ہلاک یا ذلیل کرتا ہے اور اپنے بندہ کو جور است باز ہوتا ہے دشمن کے منصوبوں اور شرارتوں سے محفوظ رکھتا ہے اُس وقت اُس کا نام خیر المکرین بیان ہوتا ہے یعنی ایسے اسباب مجرم کی سزا کے لئے مہیا کرتا ہے کہ جن اسباب کو وہ اپنے لئے کسی اور غرض سے مہیا کرتا ہے۔پس وہی اسباب جو بہتری کیلئے بناتا ہے ہلاکت کا باعث بنتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مسیح کو ایسے طرز پر بچایا کہ وہ