تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 75

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۵ سورة ال عمران آریوں کا ایک خوشی کا جلسہ قرار پایا تھا جیسا کہ عید کا دن ہوتا ہے تا اس شخص کو شدھ کیا جائے۔سو وہی خوشی کے اسباب اس کیلئے اور اس کی قوم کیلئے ماتم کے اسباب ہو گئے اور خَيْرُ الْمُکرین کے نام کو خدا تعالیٰ نے تمام آریوں کو خوب سمجھا دیا۔(استفتاء ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۱۱۶۰۱۱۵ حاشیه ) قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کی صفات میں اس قسم کا مکر بھی داخل رکھا ہے جو اُس کی ذات پاک کے منافی نہیں اور جس میں کوئی امر اُس کے تقدس اور اُس کی بے عیب ذات کے مخالف نہیں اور جس پر خدا کا قانون قدرت بھی گواہی دیتا ہے اور اس کی قدیم عادت میں پایا جاتا ہے اور خدا کا مگر اس حالت میں کہا جاتا ہے اور اُس کے اس فعل پر اطلاق پاتا ہے کہ جب وہ ایک شریر آدمی کے لئے اُسی کے پوشیدہ منصوبوں کو اُس کے سزا یاب ہونے کا سبب ٹھہراتا ہے۔قرآن شریف کے رُو سے یہی خدا کا مکر ہے جو مکر کرنے والے کے پاداش میں ظہور میں آتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَمَكَرُوا وَ مَكَرَ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمُکرین یعنی کافروں نے ایک بد مکر کیا کہ خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ معظمہ سے نکال دیا اور خدا نے اُن کے مقابل پر ایک نیک مکر کیا کہ وہی نکالنا اس رسول کی فتح اور اقبال کا موجب ٹھہرا دیا۔پس خدا نے اس جگہ اپنا نام خَيْرُ المکرین رکھا یعنی ایسا مکر کرنے والا جو نیک مکر ہے نہ بد مکر اور کافروں کے مکر کو بد مگر قرار دیا۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے مکر کو دو قسم پر تقسیم کیا ہے؟ ایک بد مکر اور ایک نیک مکر۔پس خدا نے نیک مکر اپنی صفات میں داخل کیا ہے اور بد مکر کا فروں اور شریر لوگوں کی عادات میں قرار دیا۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳، صفحه ۱۱۶) وہ مکر جو خدا کی شان کے مناسب حال ہیں وہ اس قسم کے ہیں جن کے ذریعہ سے وہ نیکوں کو آزماتا ہے اور بدوں کو جو اپنی شرارت کے مکر نہیں چھوڑتے سزا دیتا ہے اور اُس کے قانون قدرت پر نظر ڈال کر ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ ایسی مخفی رحمتیں یا مخفی مغضب اس کے قانون قدرت میں پائے جاتے ہیں۔بعض اوقات ایک مکار شریر آدمی جو اپنے بد مکروں سے باز نہیں آتا بعض اسباب کے پیدا ہونے سے خوش ہوتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ ان اسباب کے ذریعہ سے جو میرے لئے میسر آ گئے ہیں ایک مظلوم کو انتہا درجہ کے ظلم کے ساتھ میں ڈالوں گا مگر انہیں اسباب سے خدا اس کو ہلاک کر دیتا ہے اور یہ خدا کا مکر ہوتا ہے جو شریر آدمی کو ان کاموں کے بد نتیجے سے بے خبر رکھتا ہے اور اُس کے دل میں یہ خیال پیدا کرتا ہے کہ اس مکر میں اُس کی کامیابی ہے۔اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ایسے کام خدا تعالیٰ کے دنیا میں ہزار ہا پائے ا