تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 63
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۳ سورة ال عمران بِالْقُرْآنِ ثُمَّ يَرْجِعُ وَيُنْكِرُ بَعْض سے انکاری ہو جائے اور متشابہات کی پیروی کرنے لگے اور هَدَايَاتِهِ، وَيَتَّبِعُ الْمُتَشَابِهَاتِ وَيَترك محکمات کو چھوڑ دے اور قرآن کی تحریف کرے اور اس کے الْمُحْكَمَاتِ، وَيُحَرِّفُ الْقُرْآنَ وَيُغَيْرُ معانی کو ان کے مرکز مستقیم سے پھیر دے اور اپنی باتوں مُعَانِيَهُ مِن مَّرْكَزِهَا الْمُسْتَقِيمٍ، وَيُؤَيِّدُ سے مشرکوں کو مدد دے۔مگر وہ شخص جس نے کتاب اللہ سے بِأَقْوَالِهِ قَوْمًا مُشْرِكِينَ وَلكِن الذى پنجہ مارا اور جو کچھ اس میں ہے ان سب باتوں پر ایمان لایا تَمَسَّكَ بِكِتَابِ اللهِ وَآمَنَ مَا فِيهِ صِدْقًا اور سچ اور حق سمجھ لیا پس اس پر کون ساحرج اور کون سا مضائقہ وَحَقًّا فَأَيُّ حَرَجِ عَلَيْهِ وَأَى ضَيْرِ إِن تَرَكَ ہے اگر وہ ایسی روایتوں کو چھوڑ دے جو قرآن کے کھلے رَوَايَاتٍ أُخْرَى التي تُخَالِفُ بَيْنَاتِ کھلے بیانات کی مخالف ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الَّتِي الْقُرْآنِ وَلَيْسَتْ ثَابِتَةٌ من رَسُولِ الله سے ایسے قطعی اور یقینی طور سے ثابت نہیں جو قرآن کے مِّنْ بِقُبُوتٍ قَطيَ يَقِينِي الَّذِى يُسَاوِى ثبوت اور تواتر سے برابری کر سکے یا مثلاً کوئی ایسے معانی تُبُوتَ الْقُرْآنِ وَتَوَاتُرَةُ أَوْ تَرَكَ مَعَلًا ترک کرے جو نصوص قرآنیہ کے مخالف ہیں اور وہ معنے معَانٍ تُخَالِفُ نُصُوصَهُ وَاخْتَارَ الْمُوَافِق اختیار کرے جو اس کے موافق ہیں اگر چہ تاویل سے ہی وَلَوْ بِالتَّأْوِيلِ بَلْ هَذَا مِنْ سِيرِ سہی؟ بلکہ یہ تو نیک بختوں اور متقیوں کا طریق ہے اور الصَّالِحِينَ الْمُتَّقِينَ وَمِنْ سِيرِ الصَّدِيقَة حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا مادر مومناں کے طریق رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أُمِ الْمُؤْمِنِينَ فَالْوَاجِبُ اور خصلت میں سے ہے، پس ایسے شخص پر جو مومن مسلمان عَلَى الْمُؤْمِنِ الْمُسْلِمِ الْمُتَوَرِّعِ الَّذِی پرہیز گار ہے اور خدا سے جیسا کہ حق ڈرنے کا ہے ڈرتا ہے يَتَّقِى اللهَ حَقَّ الثَّقَاةِ، أَنْ يَعْتَصِمَ بِحَبْلِ واجب ہے۔جو حبل اللہ سے جو قرآن ہے پنجہ مارے اور اللهِ الْقُرْآنِ وَلَا يُبَالِي غَيْرَهُ الَّذي يُخالِفُہ اس کے غیر کی کچھ پرواہ نہ کرے جو اس کا مخالف ہے اور وَ إِذَا رَأَى وَالْكَشَفَ عَلَيْهِ أَنَّ بَعْضَ جب دیکھے اور جب اس پر کھلے کہ بعض علماء سلف میں الْعُلَمَاءِ مِنَ السَّلَفِ أَوِ الْخَلفِ غلطوا في سے يا خلف میں سے کسی بات کے سمجھنے میں غلطی میں پڑ فَهُم أَمْرٍ فَلَيْسَ مِن دَيَانَتِهِ أَنْ يَتَّبِعَ گئے ہیں تو اس کی دیانت سے بعید ہو گا کہ ان کی غلطیوں أَغْلاظهُمْ، وَيَقْبَلَهَا بِغَضِ الْبَصَرِ، وَلا کی پیروی کرے اور آنکھ بند کر کے ان کو قبول کر لیوے اور کسی سمجھانے والے کے سمجھانے سے باز نہ آوے۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) يُفَارِقَهَا بِتَفْهِيْمِ مُفَهم نور الحق حصہ اول، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۰ تا ۱۳)