تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 48
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۴۸ سورة ال عمران۔الْمُضَاهَاةُ كَمَا لا يخفى عَلَى الْقَرِيحَةِ الْوَقَادَةِ مشابہت کا ہونا ضروری ہے جو سلیم الطبع لوگوں پر قُلْنَا إِنَّ خَلْقَ إِنْسَانٍ مِنْ غَيْرِ آبِ دَاخِل فِی پوشیدہ نہیں ہے۔ہم کہتے ہیں کہ انسان کا بے باپ عَادَةِ اللهِ الْقَدِيرِ الْحَكِيمِ وَلَا نُسَلِّمُ أَنَّهُ پیدا کر نا عادت اللہ میں داخل ہے اور ہم اس کو قبول خَارِجٌ مِّنَ الْعَادَةِ وَلَا هُوَ حَرِيٌّ بِالتَّسْلِيمِ نہیں کرتے کہ یہ خارج از عادت ہے اور نہ لائق فَإِنَّ الْإِنْسَانَ قَد يَتَوَلَّدُ مِنْ نُطْفَةِ الْاِمْرَأَةِ ہے کہ اس بات کو قبول کیا جائے کس لئے کہ انسان وَحْدِهَا وَلَوْ عَلى سَبِيْلِ النُّدْرَةِ وَلَيْسَ بھی عورت کے نطفہ سے بھی پیدا ہو جاتا ہے هُوَ بِخَارِجِ مِنْ قَانُونِ الْقُدْرَةِ بَلْ لَّه نَظَائِرُ اگر چہ بات نادر ہو اور یہ امر قانون قدرت سے بھی وَقِصَصْ فِي كُلِّ قَوْمٍ وَقَدْ ذَكَرَهَا الْأَطِباءُ مِنْ خارج نہیں ہے بلکہ ہر قوم میں اس کی نظیریں پائی أَهْلِ التَّجْرِبَةِ۔نَعَمُ نَقْبَلُ أَنَّ هَذِهِ الْوَاقِعَةَ جاتی ہیں اور اہل تجر بہ طبیبوں نے ایسی نظیروں کا قَلِيْلَهُ يُسْبَةٌ إلى مَا خَالَفَهَا مِنْ قَانُونِ ذکر کیا ہے۔ہاں ! ہم یہ بات قبول کر سکتے ہیں کہ التَّوْلِيدِ۔وَكَذَالِكَ كَانَ خَلْقِي مِنَ اللهِ الْوَحِيدِ بغیر باپ کے پیدا ہونا قلیل الوقوع امر ہے، بہ نسبت وَكَانَ كَمِثْلِهِ في النُّسْرَةِ وَكَفَى هَذَا الْقَدْرُ اس امر کے کہ اس کا مخالف ہے اور اس امر عجیب لِلسَّعِيدِ۔فَإِنِّي وُلِدتُ تَوْءَمَا وَ كَانَتْ صَبِيَّةٌ کے مشابہ میری پیدائش ہے۔کس لئے کہ میں تو ام تَوَلَّدَتْ مَعِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ فَمَاتَتْ وَبَقِيتُ پیدا ہوا ہوں اور میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی حَيًّا مِنْ أَمْرِ الله ذى الْعِزَّةِ۔وَلَاشَكَ أَنَّ هَذِهِ تھی جو وہ مرگئی اور میں زندہ رہ گیا اور اس میں کوئی الْوَاقِعَةَ نَادِرَةٌ نِسْبَةً إِلَى الطَّرِيقِ الْمُتَعَارِفِ شک نہیں ہے کہ یہ واقعہ بھی نسبتاً عام پیدائش کے الْمَشْهُودِ وَيَكْفِى لِلْمُضَاهَاةِ الإشتراك في قاعدہ سے عجیب ہے اور مشابہت کے لئے اسی قدر النُّدارَةِ بِهَذَا الْقَدْرِ عِنْدَ اهْلِ الْعَقْلِ وَالشُّعُورِ | اشتراک کافی ہے۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ ، صفحه ۸۵ تا ۸۸ حاشیه ) ثُمَّ اعْلَمُ أَنَّ تَوَلُّدَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مِنْ پھر جان لو کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا بے باپ آبِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِهدَ الطَّرِيقِ پیدا ہونا بنی اسرائیل میں سے یہود کے لئے ایک تَنْبِيَّة لِلْيَهُودِ وَعِلْمٌ لِسَاعَتِهِمْ وَإِشَارَةٌ إِلى تنبیہ ہے اور ان کے زوال کی گھڑی پر ایک دلیل ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضرور نبوت ان النبوة مُنتَرَع مِنهُم بِالتَّحْقِيقِ۔(خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۸۹ حاشیہ) ان سے منتقل ہو جائے گی۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) دو