تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 47

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۴۷ سورة ال عمران وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَ كَهْلاً وَ مِنَ الصَّلِحِينَ۔گھل کے لفظ سے درمیانی عمر کا آدمی مراد لیتے ہیں مگر یہ مسیح نہیں ہے۔صحیح بخاری میں دیکھئے جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب ہے، اس میں گھل کے معنے جو ان مضبوط کے لکھے ہیں اور یہی معنے قاموس اور تفسیر کشاف وغیرہ میں موجود ہیں اور سیاق سباق آیات کا بھی انہیں معنوں کو چاہتا ہے۔کیونکہ اللہ جل شانہ کا اس کلام سے مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم نے خورد سالی کے زمانہ میں کلام کر کے اپنے نبی ہونے کا اظہار کیا پھر ایسا ہی جوانی میں بھر کر اور مبعوث ہو کر اپنی نبوت کا اظہار کرے گا۔سو کلام سے مراد وہ خاص کلام ہے جو حضرت مسیح نے ان یہودیوں سے کیا تھا جو یہ الزام ان کی والدہ پر لگاتے تھے اور جمع ہو کر آئے تھے کہ اے مریم! تو نے یہ کیا کام کیا ؟ پس یہی معنے منشا ء کلام الہی کے مطابق ہیں اگر ادھیڑ عمر کے زمانہ کا کلام مراد ہوتا تو اس صورت میں یہ آیت نعوذ باللہ الغوظہر تی گویا اس کے یہ معنے ہوتے کہ مسیح نے خوردسالی میں کلام کی اور پھر پیرانہ سالی کے قریب پہنچ کر کلام کرے گا اور درمیان کی عمر میں بے زبان رہے گا ، مطلب تو صرف اتنا تھا کہ دو مرتبہ اپنی نبوت پر گواہی دے گا، منصف کے لئے ایک بخاری کا دیکھنا ہی کافی ہے۔مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۷) حضرت عیسی کی نسبت لکھا ہے کہ وہ مہد میں بولنے لگے اس کا یہ مطلب نہیں کہ پیدا ہوتے ہی یا دو چار مہینہ کے بولنے لگے بلکہ اس سے مطلب ہے کہ جب وہ دو چار برس کے ہوئے کیونکہ یہی وقت تو بچوں کا پنگھوڑوں میں کھیلنے کا ہوتا ہے اور ایسے بچے کے لئے باتیں کرنا کوئی تعجب انگیز امر ہیں ہماری لڑکی امتہ الحفیظ بھی بڑی باتیں کرتی ہے۔الحکم جلد نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ / مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۱) b قَالَتْ رَبِّ الى يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَ لَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٍ قَالَ كَذَلِكِ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ إِنْ قِيْلَ إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خُلِقَ مِنْ غَيْرِ آبِ اگر کہا جائے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بے باپ من يَد الْقُدْرَةِ - وَهَذَا آمَرٌ فَوْقَ الْعَادَةِ پیدا ہوئے تھے اور یہ اک امر فوق العادت ہے۔فَلَايَتِمُّ هُنَاكَ شَأْنُ الْمُمَاثَلَةِ وَقَدْ وَجَبَ پس شان مماثلت پوری نہیں ہوتی ہے اور باہم