تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 36
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶ سورة ال عمران خدا تعالیٰ کا قانون قدرت لغو اور بے فائدہ نہیں ہے جو ذرائع کسی امر کے حصول کے خدا نے بنائے ہیں آخر انہیں کی پابندی سے وہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔کان سننے کے واسطے خدا نے بنائے ہیں مگر دیکھ نہیں سکتے۔آنکھ جو دیکھنے کے واسطے بنائی گئی ہے وہ سننے کا کام نہیں کر سکتی۔بس اسی طرح خدا کے فضل کے فیضان کے حصول کی جو راہ اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے اس سے باہر رہ کر کیسے کوئی کامیاب ہوسکتا ہے۔حقیقی پاکیزگی اور طہارت ملتی ہے اتباع نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیونکہ خود خدا نے فرما دیا کہ اگر خدا کے محبوب بننا چاہتے ہو تو رسول کی پیروی کرو۔پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہمیں کسی بنی یا رسول کی کیا ضرورت ہے وہ گویا کہ اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت کو باطل کرنا چاہتے ہیں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۲ مورخه ۱۰ رمئی ۱۹۰۸ صفحه ۴) جبکہ خدا تعالیٰ کی محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے وابستہ ہے اور آنجناب کے عملی نمونوں کے دریافت کے لئے جن پر اتباع موقوف ہے حدیث بھی ایک ذریعہ ہے پس جو شخص حدیث کو چھوڑتا ہے وہ طریق اتباع کو بھی چھوڑتا ہے۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۰۸) قُلْ أَطِيعُوا اللهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوا فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْكَفِرِينَ) اُن کو کہہ کہ خدا اور رسول کی اطاعت کرو پس اگر وہ اطاعت سے منہ پھیر لیں تو خدا کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔ان آیات سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ گناہوں کی مغفرت اور خدا تعالیٰ کا پیار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے وابستہ ہے اور جولوگ ایمان نہیں لاتے وہ کافر ہیں۔(حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ ، صفحه ۱۳۰) ہر ایک دل اس بات کو محسوس کر سکتا ہے کہ ایک حج کے ارادہ کرنے والے کے لئے اگر یہ بات پیش آ جائے کہ وہ اس مسیح موعود کو دیکھ لے جس کا تیرہ سو برس سے اہل اسلام میں انتظار ہے۔تو بموجب نص صریح قرآن اور احادیث کے وہ بغیر اس کی اجازت کے حج کو نہیں جا سکتا۔ہاں ! باجازت اس کے دوسرے وقت میں جاسکتا ہے۔( تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۹) b فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أنْثَى وَاللهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَ لَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنثى وَ إِنِّي سَبَيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيدُهَا بِكَ وَ وَإِنِّي ج